اسلام آباد – پاکستان اور بھارت نے 2008 کے معاہدہ برائے قونصلر رسائی کے تحت قیدیوں کی فہرستوں کا سال میں دو بار کیا جانے والا تبادلہ پیر کے روز مکمل کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کے نمائندے کو 246 بھارتی قیدیوں کی فہرست فراہم کی، جن میں 53 عام شہری اور 193 ماہی گیر شامل ہیں۔
اس کے جواب میں بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک افسر کو 463 پاکستانی قیدیوں کی فہرست دی، جن میں 382 عام شہری اور 81 ماہی گیر شامل ہیں۔
پاکستان نے ان تمام قیدیوں کی فوری رہائی اور واپسی کا مطالبہ کیا ہے جن کی قومیت کی تصدیق ہو چکی ہے اور جنہوں نے اپنی سزائیں مکمل کر لی ہیں۔
دفتر خارجہ نے ان قیدیوں کے لیے خصوصی قونصلر رسائی کی بھی درخواست کی ہے جنہیں جسمانی یا ذہنی صحت کے مسائل درپیش ہیں، تاکہ ان کی قومیت کی جلد تصدیق ممکن ہو سکے۔
پاکستان نے بھارت سے ان قیدیوں کو بھی قونصلر رسائی فراہم کرنے کی اپیل کی ہے جو تاحال اس سہولت سے محروم ہیں، اور تمام پاکستانی قیدیوں کی سلامتی، تحفظ اور بہبود یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
دفتر خارجہ نے ایک بار پھر پاکستان کے انسانی ہمدردی پر مبنی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام پاکستانی قیدیوں کی جلد واپسی کیلئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
