تیانجن، چین — پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارت کے ساتھ جنگ بندی کے عزم کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ طاقت کے استعمال کو معمول بنانا خطے میں امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ صرف بات چیت اور سفارتکاری سے ممکن ہے، نہ کہ محاذ آرائی سے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے باوجود ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، لیکن "اگر جارحیت کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنایا گیا تو امن کا قیام ممکن نہیں۔”
اپریل میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے، جس کے بعد چند روزہ جھڑپوں کے بعد مئی میں امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی۔
اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کو خطے میں استحکام کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں اور داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔
افغانستان کے معاملے پر انہوں نے ایس سی او رابطہ گروپ کی بحالی کی حمایت کی اور خطے میں مشترکہ ترقیاتی فنڈ اور مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا۔
