نیو یارک اقوام متحدہ میں پیر کو ماحول شدید تناؤ کا شکار ہوگیا جب نیٹو اتحادیوں نے روس پر بار بار فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور خبردار کیا کہ یہ اقدامات یورپ کو براہِ راست تصادم کے قریب لے جا سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے ایک ہنگامہ خیز اجلاس میں برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے ماسکو کے اقدامات کو ’’لاپرواہ‘‘ قرار دیا اور واضح کیا کہ نیٹو اپنی فضاؤں کے دفاع میں ہچکچائے گا نہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’’اگر طیارے نیٹو کی حدود میں بغیر اجازت داخل ہوئے تو ان کا سامنا ضرور کیا جائے گا
یہ کشیدگی استونیا اور پولینڈ میں لگاتار پیش آنے والے واقعات کے بعد بڑھ گئی۔ استونیا نے اطلاع دی کہ جمعے کے روز روس کے تین MiG-31 لڑاکا طیارے 12 منٹ تک اس کی فضائی حدود میں رہے، جنہیں بعد میں واپس دھکیل دیا گیا۔ اس سے ایک ہفتہ قبل 20 سے زائد روسی ڈرونز پولینڈ میں داخل ہوئے تھے جن میں سے کچھ کو نیٹو کے جیٹ طیاروں نے مار گرایا۔ مغربی حکام کے مطابق یہ پروازیں غالباً نیٹو کی تیاریوں کو پرکھنے کے لیے کی گئیں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس اور دیگر مغربی وزراء نے کوپر کے مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ یہ خلاف ورزیاں اتفاقیہ نہیں بلکہ دانستہ ہیں۔ یوکرین کے وزیرِ خارجہ اندریئی سبیہا نے اس سے بھی سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ایسے خطرات کو ’’محض روکنے کے بجائے ختم کرنا چاہیے‘‘۔ انہوں نے تجویز دی کہ کییف کے فضائی دفاعی نظام کو نیٹو سے منسلک کیا جائے۔
امریکا نے بھی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ میں اپنے پہلے خطاب میں نئے امریکی مندوب مائیکل والٹز نے کہا: ’’امریکا اور ہمارے اتحادی نیٹو کی ہر انچ زمین کا دفاع کریں گے۔ ماسکو کو کشیدگی کم کرنی چاہیے، بڑھانی نہیں۔
روس نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ روسی نائب سفیر دیمتری پولیانسکی نے ان دعوؤں کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے یورپی طاقتوں پر ’’سیاسی تماشہ‘‘ رچانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو یورپ کی طویل المیعاد سلامتی پر ’’سنجیدہ بات چیت‘‘ کے لیے تیار ہے مگر سیاسی نمائش قبول نہیں۔
یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ مشرقی یورپ کی فضاؤں میں نیٹو اور روس کے درمیان ٹکراؤ کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں جانب سے یہ انتباہ دیا جا رہا ہے کہ اگر واقعات مزید بڑھتے ہیں تو اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
