واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی تنظیم حماس کو دھمکی آمیز پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں غزہ کے لیے پیش کردہ امن منصوبے کو اتوار کی شام مقامی وقت کے مطابق 6 بجے تک قبول کر لینا چاہیے، ورنہ ’ایسا تباہ کن ردعمل‘ ہوگا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ آخری موقع ہے اور ان کے مطابق باقی فریق پہلے ہی اس منصوبے پر دستخط کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو غزہ میں موجود باقی حماس کارکنوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے معصوم فلسطینیوں سے محفوظ علاقوں کی طرف منتقلی کی اپیل کی، مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ علاقے کہاں ہوں گے اور وہاں پہنچانے کا کون سا انتظام کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق حماس نے اس تجویز کا جائزہ لینے کے لیے مشاورت شروع کر رکھی ہے۔ ریٹرز سے بات کرنے والے ایک عہدیدار نے کہا کہ حماس مذاکراتی عمل کے لیے عرب ثالثوں، ترکی اور دیگر فلسطینی دھڑوں سے رابطے کر رہا ہے اور ابھی حتمی فیصلہ زیرِ بحث ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی رپورٹ کیا کہ حماس کے عسکری ونگ کی قیادت سے رابطے ہوئے جنہوں نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی منصوبے کا اعلان وائٹ ہاؤس میں 29 ستمبر کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا تھا۔ اس میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، عبوری انتظامیہ کی تشکیل، اور غزہ میں مسلح تنظیموں کی فوجی صلاحیت ختم کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت عرب اور مسلم شراکت دار غزہ کی سکیورٹی اور دوبارہ تعمیر میں کردار ادا کریں گے اور اسرائیلی افواج کے جزوی انخلا کے لیے ٹائم لائن بنائی جائے گی۔
اتوار کی ڈیڈ لائن کے تناظر میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔
