مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ ان کے حالیہ "ریاست” سے متعلق ریمارکس کا مقصد ہرگز اسٹیبلشمنٹ یا فوج کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں تھا، بلکہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
مظفرآباد میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جب انہوں نے "ریاست” کا لفظ استعمال کیا تو اس سے مراد ریاستی نظام اور حکومتی اداروں کی وہ ذمہ داریاں تھیں جو آئین کی بالادستی، عوام کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور اسے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید قرار دینا درست نہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ قومی اداروں کا احترام کرتی آئی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی گفتگو کا مقصد ریاست کو قومی مفاد، جمہوریت اور آئینی اصولوں کے مطابق فیصلے کرنے کی ضرورت کی طرف توجہ دلانا تھا، نہ کہ کسی ادارے کو نشانہ بنانا۔
انہوں نے سیاسی مخالفین پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کے بیان کو جان بوجھ کر غلط رنگ دے رہے ہیں تاکہ غیر ضروری سیاسی تنازع پیدا کیا جا سکے۔ بلاول نے کہا کہ ان کی جماعت جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور ہمیشہ قومی اتحاد اور سیاسی استحکام کی حمایت کرتی ہے۔
اپنی تقریر میں بلاول بھٹو نے آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال کا بھی ذکر کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ اختلافات کو مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور حقائق سامنے لانے کے لیے ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی تجویز بھی دی تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
آخر میں بلاول بھٹو نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کے "ریاست” سے متعلق ریمارکس کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیان کرنا درست نہیں، کیونکہ ان کی گفتگو کا مقصد صرف ریاستی اداروں کو آئینی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانا اور قومی مفاد کے مطابق فیصلوں کی ضرورت پر زور دینا تھا۔
