سابق اراکین پارلیمنٹ کے بچوں کو سفارتی (بلیو) پاسپورٹ جاری کرنے کی مجوزہ قانون سازی پر شدید عوامی برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں اور سیاسی مبصرین کی جانب سے اس اقدام کو "شرمناک” اور ریاستی مراعات کا غلط استعمال قرار دیا گیا ہے۔
یہ مجوزہ مسودہ قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سابق اراکین کے بچوں کو سفارتی پاسپورٹ کے حصول کا اہل بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تجویز کے سامنے آتے ہی عوامی حلقوں میں ایک غیر معمولی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ نجی حیثیت رکھنے والے افراد کے اہل خانہ کو ریاستی پروٹوکول دینے کا جواز کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک تجزیہ کار نے لکھا: "یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام کس قدر بگڑ چکا ہے۔ ایک طرف عوام بنیادی دستاویزات کے حصول کے لیے دھکے کھا رہے ہیں، دوسری طرف ایک طبقہ خود کو مستقل اشرافیہ بنانے میں مصروف ہے۔”
سفارتی پاسپورٹ عام طور پر حاضر سروس سفارت کاروں، اعلیٰ سرکاری حکام اور سرکاری فرائض پر بیرونِ ملک جانے والے افراد کے لیے مختص ہوتا ہے۔ یہ دستاویز کئی ممالک میں ویزا فری داخلے اور خصوصی پروٹوکول کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق قانون سازوں کے بچوں کو یہ سہولت دینا نہ صرف قومی مفاد کے منافی ہے بلکہ اس سے معاشرے میں طبقاتی تفریق مزید گہری ہوگی۔
حکومتی ایوانوں کے اندر موجود اس بل کے حامیوں نے اسے "سیکیورٹی خدشات” کا نام دے کر درست قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، یہ دلیل عوام میں پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی ہی اصل مسئلہ ہے تو ریاست کو پروٹوکول دینے کے بجائے سیکیورٹی فراہم کرنی چاہیے، نہ کہ ایسی سفری دستاویزات دی جائیں جن کا مقصد ریاست کی نمائندگی ہے۔
ملک اس وقت شدید معاشی مشکلات اور کفایت شعاری کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں قانون سازوں کی جانب سے اپنی اولاد کے لیے مراعات کو ترجیح دینے کے عمل کو سیاسی حلقوں میں "غیر حساس” قرار دیا جا رہا ہے۔
بہت سے لوگوں کے لیے یہ بل ادارہ جاتی استحقاق کا عکاس ہے۔ بات صرف ایک دستاویز کی نہیں، بلکہ عوامی نمائندوں اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی ہے۔
جیسے جیسے بحث شدت اختیار کر رہی ہے، بل پیش کرنے والے اراکین پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ریاستی وسائل کے اس ممکنہ استعمال کا جواز پیش کریں۔ یہ بل ووٹنگ کے مرحلے تک پہنچتا ہے یا نہیں، یہ الگ سوال ہے، لیکن عوامی رائے کے میدان میں اس تجویز کی سیاسی قیمت کا تعین ابھی سے کیا جا رہا ہے۔
