لیڈ: پاکستانی طلبا نے 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں تین کانسی کے تمغے اپنے نام کر کے عالمی تعلیمی میدان میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔ اس مقابلے میں دنیا بھر کے 80 سے زائد ممالک کے ذہین ترین طلبا شریک تھے، جہاں انہیں سخت نظریاتی اور تجرباتی امتحانات سے گزرنا پڑا۔
تینوں میڈلسٹ — محمد سلمان، دانیال احمد اور شایان صدیقی — نے سینکڑوں حریفوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کلاسیکل میکانکس، تھرمو ڈائنامکس اور کوانٹم تھیوری کے پیچیدہ سوالات حل کیے۔ یہ کامیابی قومی کیریئر پروگرام کے تحت کی گئی کئی ماہ کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔
میزبان ملک میں منعقدہ اس مقابلے میں مقابلہ انتہائی سخت تھا۔ عام طور پر ٹاپ پوزیشنز ان ممالک کے حصے میں آتی ہیں جہاں فزکس کی خصوصی تربیت پر بھاری سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود، پاکستانی وفد کا مسلسل میڈلز حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ طلبہ کی فنی مہارتوں کا معیار بلند ہو رہا ہے۔
ٹیم کے ایک سرپرست نے امتحانی معیار پر بات کرتے ہوئے کہا، "اس سال تجرباتی مرحلہ خاصا مشکل تھا۔ ہمارے طلبہ کو انتہائی قلیل وقت میں پیچیدہ آلات کو درست کرنا تھا۔ کانسی کا تمغہ جیتنا صرف نصابی علم کی بات نہیں تھی، بلکہ یہ اس وقت اعصاب پر قابو رکھنے کا امتحان تھا جب آلات توقع کے مطابق کام نہیں کر رہے تھے۔”
ان طلبہ کا انتخاب ملک بھر سے ہزاروں امیدواروں میں سے ایک کثیر مرحلاتی عمل کے ذریعے کیا گیا تھا۔ انہیں معروف یونیورسٹیوں میں خصوصی تربیتی کیمپوں سے گزارا گیا، جہاں انہوں نے ہائی اسکول کے روایتی نصاب سے آگے بڑھ کر یونیورسٹی سطح کے مسائل حل کرنے کی مشق کی۔
یہ کامیابی ایک اہم حقیقت کو اجاگر کرتی ہے: پاکستانی نوجوان جدید لیبارٹری انفراسٹرکچر کی کمی کے باوجود عالمی STEM مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہ تمغے جہاں قومی فخر کا باعث ہیں، وہیں یہ ملک کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں موجود وسیع امکانات کی یاد دہانی بھی ہیں۔
ٹیم آئندہ چند روز میں وطن واپس پہنچے گی۔ ان طلبا کے لیے اب توجہ مقابلوں سے ہٹ کر یونیورسٹی داخلوں اور تحقیقی مواقع پر مرکوز ہوگی، جہاں میں ان کی کارکردگی عالمی سطح کے تعلیمی اداروں میں اسکالرشپ کے حصول کے لیے ایک مضبوط اثاثہ ثابت ہوگی۔
