تیل اور گیس کی بڑی کمپنیوں کی اندرونی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ ان اداروں کو میتھین کے اخراج سے ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کا علم کئی دہائیوں قبل ہو چکا تھا، اس کے باوجود انہوں نے عوامی سطح پر اس خطرے کو چھپائے رکھا۔
محققین کی جانب سے سامنے لائی گئی ان دستاویزات کے مطابق، توانائی کے بڑے اداروں نے 1980 کی دہائی میں ہی اپنی تنصیبات میں میتھین کے اخراج کے اعداد و شمار جمع کرنا شروع کر دیے تھے۔ ایک طرف کمپنیاں عوامی فورمز پر قدرتی گیس کو کوئلے کے مقابلے میں ماحول دوست "برج فیول” قرار دے کر فروغ دیتی رہیں، تو دوسری طرف ان کے اندرونی بریفنگ نوٹس میں واضح طور پر خبردار کیا گیا تھا کہ گیس کے لیکیج سے ہونے والا نقصان کوئلے کے استعمال سے ہونے والے نقصان کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
میتھین ایک انتہائی طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 20 سال کے عرصے میں تقریباً 80 گنا زیادہ حرارت جذب کرتی ہے۔ صنعت نے برسوں تک یہ بیانیہ چلایا کہ قدرتی گیس ایک "صاف ستھرا” متبادل ہے، جس کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی کہ گیس کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہے۔ نئی دستاویزات بتاتی ہیں کہ یہ کمپنیاں حقیقت سے بخوبی واقف تھیں کہ ان کا بنیادی ڈھانچہ خستہ حال ہے اور اس کے ماحولیاتی اثرات تباہ کن ہیں۔
تحقیقی ٹیم میں شامل ایک ماہر کا کہنا ہے کہ "ان کے پاس ڈیٹا موجود تھا، چارٹس سامنے تھے، لیکن انہوں نے اس کے باوجود ‘برج فیول’ کے جھوٹے بیانیے کو بیچنے کا فیصلہ کیا۔”
کمپنیوں کی حکمت عملی ایک تکنیکی سقم پر مبنی تھی۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر مرکوز رکھی تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کی مصنوعات کوئلے سے بہتر ہیں۔ اس دوران انہوں نے گیس کی نکاسی اور نقل و حمل کے دوران ہونے والے "پوشیدہ اخراج” کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا، جس کی بدولت وہ عالمی منڈیوں میں گیس کی کھپت بڑھانے کے لیے لابنگ کرنے میں کامیاب رہیں۔
یہ انکشافات محض ایک تاریخی حوالہ نہیں ہیں۔ یہ ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب عالمی ریگولیٹرز میتھین کے اخراج پر سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ یورپی یونین اور امریکہ نے حال ہی میں نگرانی کے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں، جس سے ان کمپنیوں کو مجبوراً اس گیس کا حساب دینا پڑ رہا ہے جسے وہ دہائیوں تک "غیر مرئی” قرار دیتی رہی ہیں۔
متاثرہ کمپنیوں کے لیے اب قانونی اور ساکھ کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مقدمات لڑنے والے وکلاء اب ان اندرونی دستاویزات کو سرمایہ کاروں اور عوام کو گمراہ کرنے کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
صنعت کا پرانا دفاع یہ تھا کہ میتھین کا اخراج ایک غیر متوقع تکنیکی مسئلہ تھا، مگر اب یہ محض ایک سوچی سمجھی چال دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے سائنس کو غلط نہیں سمجھا تھا، بلکہ انہوں نے سچ بولنے کی قیمت کا حساب لگایا اور اسے بہت زیادہ سمجھ کر چھپانے کا فیصلہ کیا۔
