ملک بھر کے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومت کے ساتھ ڈیلی فیول پرائسنگ (روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین) پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعہ سے شروع ہونے والی اس ہڑتال کے باعث ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی لائن شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تنازع کی بنیادی وجہ حکومت کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے مطابق مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی لائی جائے گی۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ یہ اقدام ان کے منافع کے مارجن کو ختم کر دے گا اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر انونٹری کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایسوسی ایشن کے صدر نے بدھ کی رات پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ "ہم صرف اپنے منافع کی جنگ نہیں لڑ رہے، یہ ہمارے کاروبار کے وجود کا سوال ہے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) قیمتوں کے تعین کے مجوزہ میکانزم پر نظرثانی نہیں کرتی، ممبر اسٹیشنز ایندھن کی خریداری اور فروخت بند رکھیں گے۔
اس ہڑتال کے اثرات 48 گھنٹوں کے اندر لاجسٹک اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے خوف کے عالم میں کی جانے والی خریداری کے باعث پہلے ہی کئی اسٹیشنز پر ذخائر ختم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب، حکومتی ذرائع کا اصرار ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین عالمی معیار کے مطابق ضروری ہے تاکہ مقامی نرخوں کو بین الاقوامی خام تیل کے نرخوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے ہڑتال کو "غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں شفافیت ہی صارفین کو اچانک بڑے جھٹکوں سے بچا سکتی ہے۔
تاہم، عام شہری کے لیے اس پالیسی تبدیلی اور ہڑتال کا مطلب صرف لمبی قطاریں اور خالی پمپ ہیں۔
ماضی میں بھی قیمتوں کے ڈھانچے میں تبدیلی کی کوششوں کے دوران ڈیلرز کی جانب سے مزاحمت کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اکثر عارضی شٹ ڈاؤن دیکھنے میں آیا۔ لیکن اس بار ڈیلرز نے حکومت سے کمیشن میں اضافے کی تحریری ضمانت ملنے تک مذاکرات کی میز پر واپس آنے سے انکار کر دیا ہے۔
جمعرات کی شام تک دونوں فریقین کے درمیان کسی ہنگامی ملاقات کا شیڈول طے نہیں پا سکا تھا۔ اگر ڈیڈ لاک برقرار رہا تو جمعہ کی صبح سے سڑکوں پر ٹریفک کا پہیہ جام ہونے کا امکان ہے۔
