نئی دہلی — اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو منگل کی سہ پہر اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کی طرف احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے کی کوشش کی۔ اس کشیدگی نے لٹینس زون میں ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا اور کانگریس اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان جاری رسہ کشی کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا۔
پولیس اہلکاروں نے راہول گاندھی کو سڑک پر بیٹھے ہوئے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا۔ انہیں قریبی پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا، تاہم حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی جائے گی یا نہیں۔
اس احتجاج کی بنیادی وجہ وفاقی تحقیقاتی اداروں میں حکومتی مداخلت کے الزامات ہیں۔ کانگریس رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف، بی جے پی ترجمانوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ادارے بدعنوانی کے خلاف آزادانہ کام کر رہے ہیں اور یہ مظاہرے قانونی کارروائی سے توجہ ہٹانے کی ایک مایوس کن کوشش ہیں۔
7 لوک کلیان مارگ کے باہر منظر انتہائی افراتفری کا شکار رہا۔ مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے نفری بڑھا دی۔ سہ پہر تین بجے تک مرکزی شاہراہ تو خالی کروا لی گئی، تاہم علاقے میں اب بھی چھوٹے چھوٹے گروہوں میں احتجاج جاری ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کانگریس رہنما کو عوامی مظاہرے کے دوران حراست میں لیا گیا ہو۔ گزشتہ برس بھی راہول گاندھی کو مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم، آج کا واقعہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے انتہائی قریب پیش آیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اپوزیشن اب حکومت کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔
پولیس وین میں بیٹھنے سے قبل راہول گاندھی نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، "انہیں لگتا ہے کہ وہ ہمیں دیواروں اور سلاخوں سے ڈرا سکتے ہیں۔”
حکومت نے مارچ کے دوران اختیار کی گئی سیکیورٹی پروٹوکولز پر فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دہلی پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے اطراف کا علاقہ انتہائی حساس ہے، جہاں عوامی اجتماعات پر سخت پابندی عائد ہے۔
منگل کی شام تک راہول گاندھی پولیس کی حراست میں رہے۔ کانگریس نے کل ملک گیر مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج کی گرفتاری کا سیاسی اثر ابھی تھمنے والا نہیں ہے۔
