دنیا بھر کے ساحل خطرے میں: صدی کے اختتام تک نصف بیچز ختم ہو سکتے ہیں
سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آب و ہوا کی تبدیلی اور ساحلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والی تعمیرات کے باعث دنیا کے تقریباً آدھے ریتیلے ساحل اس صدی کے اختتام تک مکمل طور پر غائب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سمندر کی سطح میں اضافہ اور ساحلی شہری پھیلاؤ مل کر ایک خطرناک عمل “Coastal Squeeze” پیدا کر رہے ہیں، جس سے ساحلی نظام اپنے قدرتی تحفظ سے محروم ہو رہا ہے۔
ساحلی ماحولیاتی نظام تین باہم جڑے حصوں پر مشتمل ہے:
ریتیلے ٹیلے (dunes) — جو اونچی لہروں اور طوفانوں سے قدرتی ڈھال کا کام کرتے ہیں
ساحل (beach face) — جو کم جوار میں نمایاں اور زیادہ جوار میں ڈھک جاتا ہے
سمندر کے اندر کا کنارہ (foreshore) — جہاں لہریں ٹوٹتی ہیں
ان کے درمیان ریت کا دو طرفہ تبادلہ ساحلی توازن کو برقرار رکھتا ہے، مگر ترقیاتی منصوبے اور تعمیرات اس فطری عمل کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔
نقصانات: ماحول، معاش اور شہروں کو خطرہ
بایو ڈائیورسٹی ختم ہو رہی ہے — بہت سی سمندری و ساحلی انواع اپنا مسکن کھو رہی ہیں
مقامی معیشت (ماہی گیری و سیاحت) کمزور ہو رہی ہے
ساحلی شہر طوفانی لہروں اور سیلاب سے زیادہ غیر محفوظ ہو رہے ہیں
ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق ساحلوں کی یہ تیز رفتار تباہی آنے والے دہائیوں میں انسانی آبادیوں کے بڑے حصے کو براہِ راست متاثر کرے گی، اور حکمتِ عملی نہ اپنائی گئی تو نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا۔
