تہران میں پانی کا بحران شدید: حکومت رات کے وقت پانی کی فراہمی محدود کرنے پر غور کر رہی ہے
تہران، ایران: ایران میں بدترین خشک سالی کے باعث دارالحکومت تہران میں پانی کی فراہمی محدود کرنے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم پانی کے ضیاع کو روکنے اور شہری ضروریات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، اگرچہ اس سے عوام کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رواں سال تہران میں بارش کی مقدار گزشتہ ایک صدی میں سب سے کم ریکارڈ کی گئی ہے، اور ملک کے نصف سے زائد صوبوں میں کئی مہینوں سے بارش نہیں ہوئی۔ مقامی میڈیا کے مطابق کچھ علاقوں میں رات کے وقت پانی کی فراہمی پہلے ہی متاثر ہونا شروع ہو گئی ہے
صدر کی وارننگ
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر رواں سال کے اختتام تک بارش نہ ہوئی تو تہران کو خالی کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، صدر نے شہر کی ممکنہ منتقلی کے طریقۂ کار کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
حالیہ صورتحال اور ذخائر
تہران، جو البرز پہاڑی سلسلے کے جنوبی دامن میں واقع ہے، عموماً گرمیوں میں خشک اور سردیوں میں برفباری اور بارش کا سامنا کرتا ہے، لیکن اس سال صورتحال غیر معمولی حد تک خطرناک ہے۔
تہران کے شہری روزانہ تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی استعمال کرتے ہیں۔ کرج دریا پر قائم امیر کبیر ڈیم، جو دارالحکومت کے پانچ بڑے پانی کے ذخائر میں سے ایک ہے، تقریباً خشک ہو چکا ہے۔ تہران واٹر کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل بہزاد پارسا کے مطابق ڈیم میں صرف 14 ملین مکعب لیٹر پانی موجود ہے، جو بمشکل دو ہفتوں کی فراہمی کے لیے کافی ہے۔
گزشتہ سال اسی دوران ڈیم میں 86 ملین مکعب میٹر پانی موجود تھا، جبکہ اصفہان اور تبریز کے دیگر ڈیموں میں بھی پانی کی سطح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
مشہد کے نائب گورنر حسن حسینی نے تصدیق کی ہے کہ شہر میں رات کے وقت پانی کی فراہمی محدود کرنے کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں شدید گرمی اور بجلی کے بحران کے باعث تہران میں دو عوامی تعطیلات دی گئی تھیں تاکہ پانی اور توانائی کی بچت ممکن ہو سکے۔
