سوشل میڈیا کی دنیا میں مختصر دورانیے کی ویڈیوز (شارٹ ویڈیوز) نے نوجوانوں کے ذہنوں پر قبضہ جما لیا ہے۔ چند سیکنڈ سے لے کر چند منٹ تک کی یہ جھلکیاں اب محض تفریح نہیں رہیں بلکہ روزمرہ ڈیجیٹل زندگی کا مرکزی حصہ بن چکی ہیں۔
خودکار پلے، لامتناہی اسکرول اور صارف کی دلچسپی کو بھانپنے والے الگوردمز ایسا تجربہ بناتے ہیں کہ ایک ویڈیو ختم ہوتے ہی دوسری خود سامنے آ جاتی ہے اور یوں وقت کا احساس مٹنے لگتا ہے۔
ان پلیٹ فارمز کی خاص بات یہ ہے کہ شارٹ ویڈیوز دیکھنے والے کو سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ آگے کیا دیکھنا ہے، فیصلہ ایپ خود کرتی ہے۔ یہی سہولت آہستہ آہستہ عادت اور پھر انحصار میں بدل سکتی ہے۔
تحقیق کیا کہتی ہے؟
ماہرینِ نفسیات اور ڈاکٹروں کے درمیان اس موضوع پر طویل بحث جاری ہے کہ کیا یہ مواد نوجوان ذہن کے لیے نقصان دہ ہے۔ Psychology Today میں شائع ایک حالیہ بڑے تجزیے میں 70 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا، جن میں ذہنی صحت، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور مجموعی فلاح و بہبود پر اثرات کو پرکھا گیا۔ جس کے نتائج نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔
نمایاں منفی اثرات:
تحقیق کے مطابق شارٹ ویڈیوز کا زیادہ استعمال نوجوانوں میں ڈپریشن، دباؤ اور بے چینی میں اضافہ، منفی موڈ، تنہائی کا احساس، ذہنی صحت میں کمی، جبری یا بے قابو استعمال اور نیند کی خرابی جیسے مسائل کو بڑھا سکتا ہے جو ان تمام امراض کا سب سے بڑا سبب ہے۔
ڈاکٹر گیری گولڈ فیلڈ کہتے ہیں کہ یہ اثرات خاص طور پر اس وقت نمایاں ہوتے ہیں جب استعمال جذباتی ہو جائے یا اسے روکنا مشکل لگنے لگے۔
ماہرین کے مطابق تیز رفتار، جلدی بدلتی ویڈیوز دماغ کو مسلسل نئے محرکات دیتی رہتی ہیں، نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ نوجوانوں کے لیے طویل توجہ، صبر اور پیچیدہ کاموں پر دھیان دینا مشکل ہو جائے جبکہ یہی صلاحیتیں تعلیم اور پیشہ ورانہ کامیابی کی بنیاد ہیں۔ اس رجحان کو بعض ماہرین ڈیجیٹل اسٹریس ہائپوتھیسز کا نام دیتے ہیں۔
زیادہ اسکرین ٹائم نیند کو بھی متاثر کرتا ہے، حالانکہ صحت مند دماغی نشوونما کے لیے معیاری نیند ضروری ہے۔ اس کے ساتھ کھیل کود، خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، فطرت میں رہنا اور ذاتی مشاغل جیسی مثبت سرگرمیاں بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔
اس کا حل کیا ہے؟
تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ نوجوانوں کی حساس عمر میں ایسے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور الگوردمز پر نظر ثانی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں جو استعمال کو متوازن رکھیں اور ذہنی و ادراکی صحت کو ترجیح دیں۔
مختصر دورانیہ کی ویڈیوز وقتی لطف ضرور دیتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا چند سیکنڈ کی خوشی مستقبل کی توجہ اور سکون کی قیمت پر تو نہیں مل رہی؟
