اسلام آباد کے سیکٹر G-11 میں ضلعی و سیشن عدالت کے قریب پیر کی صبح ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہو گئے۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب عدالت میں معمول کی کارروائیاں جاری تھیں، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور عدالت کے مرکزی دروازے کے قریب تقریباً بارہ منٹ تک موجود رہا اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ موقع پر موجود گواہوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی، جبکہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل نے تصدیق کی کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور سیکیورٹی انتظامات میں ممکنہ کوتاہیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ واقعہ خوف پھیلانے کی ایک کوشش تھی، مگر ہم شہر کے امن کو دوبارہ بحال کریں گے۔”
شوبز شخصیات کا غم و غصہ
دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی شوبز شخصیات نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔
اداکارہ مایا علی نے انسٹاگرام پر لکھا: "خدایا رحم کرو، اتنا نقصان کس لیے؟ کوئی بھی اس ظلم سے کچھ نہیں جیتتا!”
سینئر اداکار عدنان صدیقی نے کہا کہ "امن ہمیشہ تشدد پر غالب آئے گا”، جبکہ ریپر طلحہ انجم نے حکومت سے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایسے عناصر کی اصلاح ممکن نہیں۔”
گلوکار علی ظفر نے ایک ٹویٹ میں کہا، "دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ نفرت اور انتہا پسندی کی قیمت ہمیشہ بے گناہ لوگ چکاتے ہیں۔”
ان کے علاوہ متعدد فنکاروں اور سماجی رہنماؤں نے بھی امن، اتحاد اور برداشت کی اپیل کی۔
دارالحکومت میں سناٹا
اسلام آباد، جو عام طور پر نسبتاً محفوظ شہر سمجھا جاتا ہے، دھماکے کے بعد غیر معمولی سکوت کا شکار رہا۔ دھماکے کا مقام عدالت سے چند سو میٹر کے فاصلے پر تھا، جو وفاقی دارالحکومت کے سخت حفاظتی زونز میں شامل ہے۔
شہر بھر میں چیک پوسٹوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں ٹریفک محدود کر دی گئی۔ ایک دکاندار نے بتایا، "خوف نہیں، بس تھکن ہے۔ ہم بار بار یہی سانحہ جھیلتے ہیں، اور ہر بار یہی سوال کرتے ہیں: آخر کب تک؟”
وزارتِ داخلہ نے فوری انکوائری کا حکم دیا ہے، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں ملوث گروہ کا تعلق شمال مغربی علاقوں سے ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ملک بھر میں سوگ
رات تک سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے موم بتیوں کی تصویریں اور تعزیتی پیغامات شیئر کیے۔ ہیش ٹیگز #PrayForIslamabad، #StopTheViolence اور #PakistanStrong ملک بھر میں ٹرینڈ کرنے لگے۔
اداکارہ ہانیہ عامر نے لکھا: "ہم نے بہت جانیں کھو دی ہیں، بہت خواب ٹوٹ گئے۔ آخر کب ختم ہوگا یہ سب؟”
تحقیقات جاری ہیں اور حکام نے یقین دلایا ہے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
فی الحال، اسلام آباد سوگ میں ہے — ایک بار پھر دہشت گردی کے سائے میں لپٹا ہوا شہر۔
