قرآن میں 1400 سال قبل رنگ برنگے پہاڑوں کا ذکر، آج چین میں مشابہ قدرتی مناظر دریافت
چودہ سو سال قبل نازل ہونے والے قرآن میں قدرتی مناظر کی ایسی وضاحت بیان کی گئی ہے جو آج جدید سائنسی مشاہدات سے ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ قرآن کی سورۃ فاطر (35:27) میں پہاڑوں کے مختلف رنگوں اور تہوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو آج دنیا کے مختلف حصوں میں عملی طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ پہاڑوں میں سفید، سرخ اور گہرے سیاہ رنگ کی مختلف دھاریاں پائی جاتی ہیں۔ جدید دور میں چین کے علاقے ژانگیے دانشیا میں موجود پہاڑ اسی نوعیت کے شاندار مناظر پیش کرتے ہیں، جہاں چٹانوں کی تہیں قوسِ قزح جیسے رنگوں میں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔
ماہرینِ ارضیات کے مطابق ان پہاڑوں کے رنگ معدنی اجزاء، لوہے کے آکسائیڈ، اور لاکھوں سالوں پر محیط زمینی عمل کا نتیجہ ہیں۔ مختلف ادوار میں جمع ہونے والی مٹی اور معدنیات وقت کے ساتھ تہوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں، جو بعد ازاں زمینی حرکات اور کٹاؤ کے باعث نمایاں ہو جاتی ہیں۔
اگرچہ قرآن کسی مخصوص مقام یا سائنسی طریقۂ کار کی نشاندہی نہیں کرتا، تاہم قدرت کے ان عمومی مناظر کی طرف توجہ دلاتا ہے، جو غور و فکر کی دعوت ہیں۔ بہت سے اہلِ ایمان کے نزدیک یہ ہم آہنگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قرآن انسان کو کائنات میں موجود نشانیوں پر تدبر کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مناظر مذہب اور سائنس کے درمیان جاری مکالمے کو مزید تقویت دیتے ہیں، جہاں جدید تحقیق انسان کو قدرت کی پیچیدگیوں سے روشناس کراتی ہے، اور مذہبی متون ان پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔
یہ قدرتی مناظر آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر رہے ہیں اور قرآن کی آیات کو ایک نئی فکری جہت کے ساتھ دیکھنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔
