راولپنڈی میں میچ کے بعد پریس کانفرنس میں پاکستان کے باصلاحیت آف اسپنر عثمان طارق نے پہلی بار اپنے کرکٹ کیریئر کے سب سے کٹھن مرحلے کا ذکر کیا — وہ وقت جب ان کے ایکشن پر سوال اٹھا اور انہیں لگا کہ شاید سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔
عثمان نے بتایا کہ وہ دور ان کے لیے نہایت پریشان کن تھا۔ غیر یقینی، دباؤ اور کرکٹ سے دور ہونے کا خوف… لیکن اسی وقت ایک ایسی شخصیت نے ان کا ساتھ دیا جس کی کوئی توقع نہیں کر رہا تھا — آسٹریلوی آل راؤنڈر شین واٹسن۔
عثمان کے مطابق واٹسن مسلسل انہیں سمجھاتے رہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، دنیا کے بڑے کھلاڑی بھی اس مرحلے سے گزر چکے ہیں۔ ان کی ہمت افزائی نے عثمان کے اعتماد کو دوبارہ زندہ کیا۔ ساتھ ہی گھر والوں نے بھی کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ دیا— یہاں تک کہ دبئی میں ٹیسٹ کروانے کے اخراجات تک اٹھانے کی پیشکش کردی۔
عثمان نے کہا:
“یہ میرے کیریئر کا سب سے مشکل وقت تھا، لیکن شین واٹسن نے ہر دن حوصلہ دیا کہ میں گھبراؤں نہیں۔ الحمدللہ، اب سب کچھ کلیئر ہو چکا ہے اور میں پہلے سے زیادہ مضبوط محسوس کر رہا ہوں۔”
پاکستانی نوجوان اسپنر کی یہ کہانی نہ صرف ہمت کی مثال ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک مشورہ، ایک سچا ساتھی اور گھر والوں کی یقین دہانی کسی کھلاڑی کا پورا سفر بدل سکتی ہے
