طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض غذائی اور ہربل سپلیمنٹس گردوں اور جگر کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اعضاء پہلے سے کمزور ہوں تو غیر تجویز کردہ یا زیادہ مقدار میں لیے گئے سپلیمنٹس اضافی دباؤ ڈال کر سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی سپلیمنٹ کے استعمال سے قبل مستند معالج سے مشورہ ضروری ہے کیونکہ سپلیمنٹس پر ادویات کی طرح سخت نگرانی نہیں ہوتی اور ان میں غیر ظاہر شدہ یا آلودہ اجزا شامل ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
کن سپلیمنٹس سے پرہیز ضروری ہے؟
1. گرین ٹی ایکسٹریکٹ (کیپسول کی شکل میں)
اگرچہ سبز چائے بطور مشروب محفوظ سمجھی جاتی ہے، تاہم اس کا مرتکز ایکسٹریکٹ زیادہ مقدار میں جگر کی سوزش اور نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
2. زیادہ مقدار والے پروٹین پاؤڈر:
غیر ضروری پروٹین کا استعمال گردوں پر بوجھ بڑھاتا ہے، خاص طور پر دائمی گردے کے مریضوں میں یہ بیماری کو بگاڑ سکتا ہے۔
3. فیٹ سولیوبل وٹامنز (A, D, E, K)
یہ وٹامنز جسم میں جمع ہو سکتے ہیں اور زیادہ مقدار میں زہریلے اثرات پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر وٹامن A جگر کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
4. بغیر ٹیسٹ کے آئرن سپلیمنٹس:
ضرورت کے بغیر آئرن لینے سے جگر میں اس کی زیادتی ہو سکتی ہے، جو ہیموکرومیٹوسس جیسی بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔
5. بعض ہربل ادویات:
کومفری، بلیک کوہوش اور گارشینیا کمبوگیا جیسے اجزا تحقیق کے مطابق جگر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
6. ملیٹھی (Licorice Root)
اس کے زیادہ استعمال سے بلڈ پریشر میں اضافہ اور پوٹاشیم کی کمی ہو سکتی ہے، جو گردوں اور دل کے مریضوں کے لیے خطرناک ہے۔
7. پوٹاشیم یا فاسفورس سپلیمنٹس:
گردوں کے مریضوں میں ان معدنیات کی سطح خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
8. غیر مستند ڈیٹوکس اور فیٹ برنر مصنوعات:
ان میں شامل نامعلوم اجزا جگر اور گردوں کے افعال کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین کی ہدایت:
ماہرین کے مطابق گردے اور جگر جسم سے فاضل اور زہریلے مادوں کے اخراج میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اعضاء کی کمزوری کی صورت میں بغیر طبی نگرانی کے سپلیمنٹس کا استعمال بیماری کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ مریض کسی بھی سپلیمنٹ کا آغاز کرنے سے پہلے مکمل طبی معائنہ اور مشاورت ضرور کریں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
