اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت (WHO) نے مون سون سیزن کے آغاز سے پہلے پاکستان بھر میں ہنگامی طبی سہولیات کی مدد کے لیے 5 ٹرکوں پر مشتمل 3 لاکھ سے زائد ضروری طبی سامان روانہ کر دیا ہے۔
ان میں 2,400 سے زائد ڈبے شامل ہیں جن میں ادویات اور طبی آلات موجود ہیں۔ یہ سامان بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہلے سے رکھ دیا جائے گا، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
یہ اقدام مون سون کنٹینجنسی پلان 2025 کا حصہ ہے، جس کا مقصد 33 متاثرہ اضلاع میں 13 لاکھ کمزور افراد کی مدد کرنا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر داپینگ لوو نے کہا کہ موسمی حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والے صحت کے بحرانوں کا بروقت جواب دینا ضروری ہے، اور ڈبلیو ایچ او پاکستان کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔
عالمی ماحولیاتی خطرات کی رپورٹ 2021 کے مطابق، پاکستان 2000 سے 2019 کے درمیان شدید موسم سے متاثر ہونے والا آٹھواں بڑا ملک رہا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ تباہ کن مون سون کی بارشوں سے آنے والے سیلاب ہیں، جو انسانی جانوں، صحت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
