آسٹریلوی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی جب سینیٹر پاولین ہینسن پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر داخل ہوئیں—اور یہ دیکھ کر بہت سے لوگ سوال کرنے لگے کہ وہ بالآخر کس چیز کو ثابت کرنا چاہتی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین، خاص طور پر X پر، اس واقعے پر غصے سے بھر گئے اور اسے ’’کھلا اسلاموفوبک ڈرامہ‘‘ قرار دیا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
کینبرا میں ہونے والے سینیٹ اجلاس میں ہینسن اس وقت اچانک برقعہ اوڑھے نمودار ہوئیں جب انہیں چہرہ ڈھانپنے والی پوشاک پر پابندی سے متعلق اپنا بل پیش کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
ان کے داخل ہوتے ہی ایوان میں بےچینی پھیل گئی۔ کئی اراکین نے انہیں فوری طور پر برقعہ اتارنے کا کہا، مگر انہوں نے انکار کردیا جس کے باعث اجلاس کو کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔
یہ پہلا موقع نہیں—وہ 2017 میں بھی بالکل ایسا ہی سٹنٹ کر چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار ردِعمل زیادہ سخت تھا۔
سینیٹرز اور عوام کیوں ناراض ہیں؟
ہینسن کے اس عمل کو مسلم خواتین کی مذہبی شناخت کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومتی ارکان نے اسے ’’شرمناک‘‘ اور ’’توہین آمیز‘‘ کہا، جبکہ مسلم کمیونٹی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور امتیاز کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
X پر ہزاروں صارفین نے اپنی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اقدام ’’پالیسی نہیں، بھڑکانے والی اداکاری‘‘ ہے۔
ایک صارف نے طنزاً لکھا:
’’سیکیورٹی کی دلیلیں ختم ہو جائیں تو سیاستدان کاسٹیوم پہن لیتے ہیں۔‘‘
ہینسن کا مؤقف — اور اس پر سوالات
ہینسن کا کہنا ہے کہ وہ ’’سیکیورٹی خدشات‘‘ کی نشاندہی کر رہی ہیں، مگر ناقدین کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئی ثبوت یا مخصوص مثال پیش نہیں کی۔ قانون ماہرین کے مطابق، آسٹریلیا میں پہلے ہی ایسی صورتوں کے لیے واضح قوانین موجود ہیں جہاں شناخت دکھانا ضروری ہو۔
اس لیے، ان کے بقول، یہ پابندی مذہب اور آزادیِ اظہار پر حملہ ہوگی۔
نتائج فوری سامنے آئے
ایوان نے اس حرکت کو پارلیمانی وقار کے خلاف قرار دیتے ہوئے ہینسن کو سرزنش کیا اور انہیں سات اجلاسوں کے لیے معطل کر دیا۔
کئی سینیٹرز نے کہا کہ پارلیمنٹ کو گمراہ کن سیاسی شو کی جگہ نہیں بننا چاہیے۔
اصل مسئلہ یہی ہے
اس واقعے نے پھر وہی سوال زندہ کر دیا ہے:
کیا مسلم خواتین کو بار بار سیاسی کھیل کا ذریعہ بنایا جاتا رہے گا؟
اور کب تک پارلیمنٹ ایسی حرکات کو برداشت کرتی رہے گی جو بحث کے نام پر تضحیک کو فروغ دیتی ہیں؟
سوشل میڈیا پر بحث بدستور جاری ہے، اور اکثریت کی آواز ایک ہی ہے:
عزت، حقائق اور سنجیدہ گفتگو—نہ کہ تماشے۔
