پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں منگل کے روز تیزی کا سلسلہ جاری رہا، جس کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ (SLA) اور ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ کے سرپلس میں واپس آنے سے پیدا ہونے والا سرمایہ کاروں کا اعتماد ہے۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,103.93 پوائنٹس (0.66 فیصد) کا اضافہ ہوا اور کاروبار کا اختتام 167,346.83 پوائنٹس پر ہوا۔
کاروباری دن کے دوران انڈیکس نے 168,197.47 پوائنٹس کی بلند ترین سطح چھوئی، جو مارکیٹ میں خریداری کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے سی ای او احفاز مصطفیٰ نے کہا کہ مارکیٹ میں مثبت رجحان معاشی استحکام، بہتر کارپوریٹ نتائج اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کی خبروں کی بدولت پیدا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی سرمایہ کاری کی متوقع آمد اور کرنٹ اکاؤنٹ کے سرپلس میں جانے سے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 110 ملین ڈالر سرپلس میں رہا، جب کہ اگست میں 325 ملین ڈالر خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جو ملک کے بیرونی مالیاتی دباؤ میں وقتی کمی کا اشارہ ہے۔
تاہم، مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 فیصد بڑھ کر 594 ملین ڈالر تک جا پہنچا۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے کہا کہ یہ سرپلس "مارکیٹ کے لیے غیر متوقع خوشگوار پیش رفت” ہے، کیونکہ تجزیہ کاروں نے 400 سے 500 ملین ڈالر خسارے کی پیش گوئی کی تھی۔
’’یہ بہتری ممکنہ طور پر کسٹمز اور بیلنس آف پیمنٹس کے درمیان ٹائمنگ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اگرچہ عارضی ہے، مگر مارکیٹ کو مختصر مدت کے لیے سہارا فراہم کر سکتی ہے۔‘‘
کاروباری ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں بھی مثبت رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے کیونکہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن اور آئی ایم ایف ریفارم ایجنڈے پر پیش رفت سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
