اسرائیلی بحریہ کی کارروائیوں کے باوجود 30 شہری کشتیاں، جن میں غیر ملکی کارکن اور امدادی سامان موجود ہے، بحیرۂ روم عبور کرتے ہوئے غزہ کی سمت رواں دواں ہیں۔ فلوٹیلا کے منتظمین نے جمعرات کو تصدیق کی کہ اب تک 13 کشتیوں کو روکا گیا ہے تاہم باقی کشتیاں اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا میں 40 سے زائد کشتیاں شامل ہیں جن پر تقریباً 500 ارکانِ پارلیمنٹ، وکلا اور سماجی کارکن سوار ہیں۔ یہ بحری قافلہ غزہ کے محصور عوام کے لیے خوراک اور ادویات لے کر جا رہا ہے۔ منتظمین کے مطابق بعض کشتیاں غزہ کے ساحل سے صرف 50 کلومیٹر دور رہ گئی ہیں، باوجود اس کے کہ اسرائیل نے بارہا خبردار کیا کہ وہ واپس لوٹ جائیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو اسرائیلی فوجیوں کے نرغے میں دکھایا گیا ہے۔ ان کی کشتی کیپٹن نیکوس کو اسرائیلی بحریہ نے روک کر مسافروں کو بندرگاہ منتقل کر دیا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ناکہ بندی کے تحت قانونی تھی۔
تاہم فلوٹیلا کے شرکا نے اسے “جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں کشتیوں پر دھاوا بولا، واٹر کینن استعمال کیے اور کمیونی کیشن سسٹم جام کر دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں کارکن پاسپورٹ دکھاتے اور دعویٰ کرتے نظر آئے کہ انہیں زبردستی اغوا کیا گیا ہے۔
یہ مشن عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ترکی، اسپین اور اٹلی اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے قافلے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی نے اسرائیلی کارروائی کو “دہشت گردی کا عمل” قرار دیا، جبکہ ملائیشیا نے اپنے آٹھ شہریوں کی گرفتاری کی مذمت کی۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے تو اسرائیلی سفارتی وفد کو ملک سے نکال دیا اور آزاد تجارتی معاہدہ بھی ختم کر دیا، جب کہ دو کولمبیائی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
کولمبیا اور اٹلی میں احتجاج بھڑک اٹھے ہیں، اٹلی کی مزدور یونینز نے فلوٹیلا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں محض “سیاسی تماشا” ہیں اور امداد محفوظ اور قانونی راستوں سے پہنچائی جا سکتی تھی۔
یہ فلوٹیلا دراصل اسرائیل کی 18 سالہ بحری ناکہ بندی توڑنے کی تازہ کوشش ہے جو 2007 میں حماس کے غزہ پر قبضے کے بعد لگائی گئی تھی۔ یاد رہے کہ 2010 میں بھی اسرائیلی کمانڈوز نے ایک فلوٹیلا پر حملہ کر کے 9 کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ناکہ بندی اسلحہ اسمگلنگ روکنے کے لیے ضروری ہے، لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ اس نے غزہ کو انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے اور اس کے بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے مزید سنگین ہو چکا ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
فلوٹیلا منتظمین نے واضح کیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے بقول: فلوٹیلا کو روکا نہیں جا سکتا۔ 30 کشتیاں اب بھی غزہ کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
