امریکہ کے شہر پروویڈنس کی میونسپل کورٹ کے چیف جج اور مشہور ریئلٹی شو Caught in Providence کے اسٹار، فرینک کیپریو 88 سال کی عمر میں لبلبے کے کینسر سے طویل جدوجہد کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے خاندان نے تصدیق کی ہے کہ وہ بدھ 20 اگست کو پُرامن طور پر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
ان کے اہلِ خانہ نے بیان میں کہا:
“جج فرینک کیپریو 88 برس کی عمر میں لبلبے کے کینسر کے خلاف ایک طویل اور بہادرانہ جنگ کے بعد پُرامن طور پر انتقال کرگئے۔ ان کی یاد میں ہم سب کو چاہیے کہ دنیا میں مزید ہمدردی بانٹیں، جیسے وہ ہر روز کیا کرتے تھے۔”
رہوڈ آئی لینڈ کے گورنر ڈین مککی نے ریاستی عمارتوں پر پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا اور کہا:
“جج کیپریو رہوڈ آئی لینڈ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ تھے۔ ذاتی طور پر وہ میرے دوست بھی تھے جنہوں نے بیماری کا بہادری سے سامنا کیا۔ میں انہیں بہت یاد کروں گا۔ انہوں نے ہمیں دکھایا کہ انصاف میں انسانیت بھی شامل ہو سکتی ہے۔”
دنیا بھر میں پہچانے جانے والے جج
کیپریو نے اپنے شو Caught in Providence کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی، جس میں وہ چھوٹے موٹے ٹریفک کیسز کو ہمدردی، مزاح اور نرمی سے نمٹاتے تھے۔ ان کا رویہ لاکھوں لوگوں کے دل جیت لیتا تھا۔
یہ شو دو دہائیوں تک مقامی سطح پر نشر ہوتا رہا، پھر قومی ٹی وی اور بعد میں یوٹیوب پر بھی بہت مقبول ہوا۔ ان کے مختصر کلپس دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے اور ان کے اندازِ انصاف کو ہر جگہ سراہا گیا۔
ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا:
“میں اپنے لباس کے نیچے بیج نہیں پہنتا، میں دل پہنتا ہوں۔”
اس سال کے اوائل میں انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب Compassion in the Court: Life-Changing Stories from America’s Nicest Judge بھی شائع کی۔
بیماری اور آخری ایام
دسمبر 2023 میں کیپریو نے اعلان کیا تھا کہ انہیں لبلبے کا کینسر ہے۔ انہوں نے اپنے ڈاکٹروں کو سراہا مگر یہ بھی کہا کہ وہ ’’ایک خطرناک قسم کے کینسر‘‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔
علاج کے دوران وہ اپنے 17 لاکھ انسٹاگرام فالوورز سے رابطے میں رہے اور کیموتھراپی کے دوران ویڈیوز بھی شیئر کرتے رہے۔ ایک ویڈیو میں وہ گلوکارہ جیول کا گانا سنتے نظر آئے، جس پر گلوکارہ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ انہیں کچھ سکون دے سکیں۔
جج فرینک کیپریو کو نہ صرف رہوڈ آئی لینڈ بلکہ دنیا بھر میں اس بات کے لیے یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے عدالت کو ایک ایسا مقام بنایا جہاں انصاف کے ساتھ ساتھ ہمدردی، مسکراہٹ اور انسانیت بھی موجود تھی۔
