انگلینڈ کے تجربہ کار آل راؤنڈر کرس ووکس نے 15 سالہ شاندار کیریئر کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ 36 سالہ ووکس نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا جب انہیں ایشیز سیریز کے لیے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا اور وہ حالیہ بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کندھے کی انجری سے مکمل صحتیاب بھی نہیں ہو پائے تھے۔
ووکس نے 2011 میں انگلینڈ کے لیے ڈیبیو کیا اور اس دوران 62 ٹیسٹ، 122 ون ڈے اور 33 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 192 وکٹیں حاصل کیں جبکہ بلے بازی میں بھی کئی اہم اننگز کھیلیں، جن میں ایک سنچری اور متعدد نصف سنچریاں شامل ہیں۔
ووکس کی سب سے بڑی کامیابیاں انگلینڈ کے ورلڈ کپ فتوحات ہیں۔ وہ 2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ اور 2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا اہم حصہ رہے۔ 2019 کے سیمی فائنل اور فائنل میں ان کی شاندار بولنگ کو اب بھی یاد کیا جاتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے اعلان پر ووکس نے کہا:
"انگلینڈ کی نمائندگی کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔ میں نے ناقابلِ یقین کھلاڑیوں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کیا، وہ ٹرافیاں جیتیں جن کا کبھی خواب دیکھا تھا، اور ایسی یادیں بنائیں جو ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی۔”
انگلینڈ کے ڈائریکٹر آف کرکٹ راب کی نے ووکس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
"وہ نہ صرف ایک شاندار کھلاڑی ہیں بلکہ بہترین انسان بھی ہیں۔ ان کی خدمات اور کھیل کے لیے دی جانے والی محنت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔”
اگرچہ ووکس نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے، لیکن وہ اب بھی کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے رہیں گے اور دنیا بھر کی فرینچائز ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
کرس ووکس کو ہمیشہ ایک ایسے کرکٹر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے انگلینڈ کے لیے دل و جان سے کھیل کر کئی تاریخی لمحات تخلیق کیے۔
