بالی وڈ اداکار بوبی دیول نے حال ہی میں اپنے بچپن سے متعلق ایک دلچسپ اور جذباتی انکشاف کیا ہے، جس نے مداحوں کے دل جیت لیے ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں بوبی نے بتایا کہ وہ 14 سال کی عمر تک اپنے والدین کے کمرے میں سوتے رہے کیونکہ انہیں اندھیرے سے ہمیشہ خوف آتا تھا۔
"میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں 14 سال تک اپنے ماں باپ کے ساتھ سوتا رہا۔ میرے والد ہمیشہ لائٹ جلا کر سوتے تھے… مجھے اندھیرے میں بالکل نیند نہیں آتی،” بوبی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"یہ عادت میرے والد سے آئی ہے”
بوبی نے مزید بتایا کہ ان کے والد، لیجنڈری اداکار دھرمیندر، رات کو مکمل اندھیرے میں سونا پسند نہیں کرتے تھے — اور یہی عادت انہوں نے اپنے والد سے حاصل کی۔
"آج بھی اگر مکمل اندھیرا ہو تو نیند نہیں آتی۔ میں اور میری بیوی اپنے کمرے میں ایک چھوٹی سی نائٹ لائٹ رکھتے ہیں۔ یہ میری بچپن کی عادت ہے جو آج تک نہیں گئی۔”
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی والدین انہیں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ نیچے کے کمرے میں سونے کے لیے بھیج دیتے تھے، مگر وہ خوش نہیں ہوتے تھے۔
"مجھے بس ان کے پاس رہنا اچھا لگتا تھا۔ وہی جگہ محفوظ لگتی تھی۔”
خاندانی محبت اور بچپن کی یادیں
بوبی دیول کا یہ انکشاف ان کی نرم اور سادہ طبیعت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک بڑے اسٹار ہونے کے باوجود، انہوں نے اپنے بچپن کی وہ معصوم عادت شیئر کی جس سے بہت سے لوگ خود کو جوڑ سکتے ہیں۔
بھارتی گھروں میں، خاص طور پر مشترکہ خاندانی نظام میں، بچے عموماً والدین یا دادا دادی کے قریب سوتے ہیں۔ یہ صرف ایک روایت نہیں بلکہ ایک احساسِ تحفظ بھی ہے، جو بوبی کے بیان میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔
مداحوں کا ردعمل: "بوبی بہت اصلی ہیں”
جب یہ انٹرویو ہندوستان ٹائمز اور ٹائمز آف انڈیا نے شائع کیا، تو سوشل میڈیا پر بوبی دیول کے لیے پیار اور تعریفوں کے پیغامات کی بھرمار ہوگئی۔
ایک صارف نے لکھا:
"بوبی دیول کی سادگی ہی ان کی اصل خوبصورتی ہے۔ وہ جیسے ہیں، ویسے ہی نظر آتے ہیں۔”
دوسرے نے کہا:
"یہ چھوٹی بات ہے مگر بہت دل کو چھو لینے والی۔ آج کے زمانے میں ایسے ایماندار لوگ کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔”
بوبی دیول – نیا دور، نیا اعتماد
یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب بوبی دیول کا کیریئر ایک نئی بلندی پر ہے۔ انمل اور آشرم جیسی کامیابیوں کے بعد وہ ایک بار پھر ناظرین کے پسندیدہ اداکاروں میں شمار ہو رہے ہیں۔
ان کا یہ انکشاف بتاتا ہے کہ پردے کے پیچھے ایک حساس، خاندانی اور بالکل عام انسان چھپا ہے — جو آج بھی اندھیرے میں ایک چھوٹی سی لائٹ جلائے بغیر سو نہیں پاتا۔
