بولی وڈ انڈسٹری ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہے، اس بار پاکستانی مقبول گانے بول کفارہ کو نئی فلم دیوانے کی دیوانگی میں شامل کرنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ گانا، جو اصل میں پاکستان میں تخلیق اور گایا گیا تھا، اس سے قبل بھارتی گلوکار جُبن نوتیال نے بھی ری کریئیٹ کیا تھا، جس پر کاپی رائٹ اور سرحد پار فنکارانہ چوری کے حوالے سے بحث چھڑی تھی۔ تازہ ورژن میں بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ، فرحان صابری اور ڈی جے چیتاس نے آواز دی ہے جبکہ اس میں موسیقی کے شہنشاہ نصرت فتح علی خان کے بالی وڈ فلمی کلاسک دُلہے کا سہرا کے بول بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے شدید ردعمل دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی انڈسٹری ایک طرف پاکستان پر تنقید کرتی ہے اور دوسری طرف انہی کا تخلیقی مواد چرا کر اپنی فلموں میں استعمال کرتی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’بھارت والے پاکستان کو برا بھلا کہتے ہیں اور پھر ہمارے ہی گانے چرا لیتے ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے طنزیہ تبصرہ کیا کہ اداکارہ سونم باجوا یہ گانا شاید "آئی اے ایف سے پی اے ایف” کے نام کر رہی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بولی وڈ پر پاکستانی موسیقی چوری کرنے کا الزام لگا ہو۔ اس سے قبل بھی کئی پاکستانی مقبول گانے بھارتی فلموں میں بغیر اصل تخلیق کار کو کریڈٹ دیے استعمال کیے جا چکے ہیں، جس سے شائقین کے درمیان کشیدگی بڑھتی رہی ہے۔
