بھارتی فلم انڈسٹری کے عظیم اداکار اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن دھرمیندر ممبئی میں 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، جس کے ساتھ ہی ہندی سینما کا ایک درخشاں باب اختتام کو پہنچا۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اُن کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھرمیندر کی رخصتی "بھارتی سینما کے ایک سنہرے دور کے خاتمے” کی علامت ہے۔
دھرمیندر کو اُن کی سادہ مزاجی، دبنگ شخصیت اور لازوال اداکاری نے وہ مقام دیا جسے بہت کم لوگ حاصل کر پاتے ہیں۔ 300 سے زائد فلموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے دھرمیندر نے رومانس، ایکشن، کامیڈی اور ڈراما—ہر صنف میں اپنا لوہا منوایا۔
دسمبر 1935 میں پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے گاؤں نصرالی میں پیدا ہونے والے دھرمیندر، جن کا اصل نام دھرم سنگھ دیول تھا، نوجوانی میں فلم فیئر ٹیلنٹ کانٹیسٹ جیت کر ممبئی پہنچے اور فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ 1960 میں فلم دل بھی تیرا ہم بھی تیرے سے ان کا سفر شروع ہوا جو پھر کئی دہائیوں تک کامیابیوں میں ڈھلتا چلا گیا۔
بمل رائے کی فلم بنّدنی میں ڈاکٹر کا کردار ہو، پھول اور پتھر اور میرا گاؤں میرا دیش جیسی ایکشن فلمیں ہوں، یا پھر چپکے چپکے جیسی لازوال کامیڈی—دھرمیندر ہر روپ میں پسند کیے گئے۔ اپنی بلند قامت اور مضبوط شخصیت کے باعث انہیں فلمی دنیا کا ’اصل ہی مین‘ بھی کہا جاتا تھا۔
دھرمیندر اور ہیما مالنی کی جوڑی 70 کی دہائی کی سب سے مقبول فلمی جوڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ سیتا اور گیتا، راجا جانی اور شعلے میں دونوں کی کیمسٹری نے انہیں شائقین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے بسا دیا۔ 1980 میں دونوں نے شادی کرلی اور یوں ان کی فلمی کہانی حقیقی زندگی میں بھی جاری رہی۔
فلمی دنیا کے علاوہ دھرمیندر نے سیاست میں بھی قدم رکھا اور 2005 سے 2009 تک بی جے پی کی جانب سے راجستھان کے شہر بیکانیر سے رکنِ پارلیمنٹ رہے، تاہم بعد میں انہوں نے خود ہی تسلیم کیا کہ سیاست ان کا میدان نہیں۔
اپنی فنی خدمات کے اعتراف میں 1997 میں انہیں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا، جبکہ 2012 میں بھارت نے انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے نوازا۔
دھرمیندر آخری وقت تک کام سے جڑے رہے۔ وہ اپنے بیٹوں سنی اور بوبی دیول کے ساتھ فلموں میں دکھائی دیے، ٹی وی ریئلٹی شوز ججے کیے اور سوشل میڈیا پر مداحوں سے رابطہ رکھتے رہے۔
ان کے انتقال کی خبر پر شوبز برادری نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ اداکار اکشے کمار نے کہا کہ "بچپن میں ہر لڑکے کا ہیرو دھرمیندر ہوا کرتا تھا”۔
ہدایت کار کرن جوہر نے انہیں "ایک ایسا خلا” قرار دیا "جو کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔”
دھرمیندر ہمیشہ شعلے کے ویرو کے طور پر یاد رکھے جائیں گے—وہ کردار جو نہ صرف فلم کو امر کر گیا، بلکہ دھرمیندر کو بھارتی سینما کے دل میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر گیا۔
