’دی تاج اسٹوری‘ کے پوسٹر نے شیو مندر تھیوری پر نیا تنازع کھڑا کر دیا
بالی ووڈ کے معروف اداکار پریش راول نے اپنی آنے والی فلم “دی تاج اسٹوری” کا پوسٹر جاری کر کے سوشل میڈیا پر ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ پوسٹر میں راول کو تاج محل کا گنبد اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے نیچے بھگوان شیو کا مجسمہ نظر آ رہا ہے ایک تصور جس نے ایک بار پھر اس تاریخی عمارت کی اصل کے حوالے سے پرانے تنازعات کو زندہ کر دیا ہے۔
یہ فلم تشَر امرش گوئل کی ہدایت کاری میں بنائی جا رہی ہے، جبکہ دیگر فنکاروں میں ذاکر حسین، امرتا خانولکر، اور سنیہا واگھ شامل ہیں۔ فلم سازوں کی جانب سے تاحال کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے الزام لگایا ہے کہ فلم تاج محل کے شیو مندر ہونے سے متعلق متنازع نظریے کو فروغ دے رہی ہے، جسے “تیجو مہالیہ” کہا جاتا ہے۔
یہ نظریہ بھارتی مؤرخ پی۔ این۔ اوک سے منسوب ہے، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تاج محل کی جگہ کبھی ایک قدیم شیو مندر موجود تھا، جسے بعد میں مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تاج محل میں تبدیل کر دیا۔ اوک کی یہ تحقیق برسوں قبل شائع ہوئی تھی اور اس وقت بھی ماہرینِ تاریخ کی جانب سے سخت تنقید اور تردید کا سامنا کر چکی تھی۔
یہ تنازع 2022 میں اس وقت دوبارہ سرخیوں میں آیا، جب سماجی کارکن راجنیش سنگھ نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی کہ تاج محل کے 22 بند کمروں میں موجود مبینہ ہندو دیوی دیوتاؤں کے مجسموں کی تفتیش کی جائے۔ اسی دوران بی جے پی کی رکنِ پارلیمان دیا کمارِی جو جے پور کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں نے دعویٰ کیا تھا کہ تاج محل کی زمین دراصل ان کے آبا و اجداد کی ملکیت تھی۔
فلم “دی تاج اسٹوری” کی ریلیز سے قبل ہی اس کے پوسٹر نے ایک بار پھر بھارت کی سب سے مشہور تاریخی یادگار سے متعلق حساس ثقافتی اور مذہبی بحث کو بھڑکا دیا ہے۔
