کراچی – ماڈل اور اداکارہ حمیرہ اصغر کی پرسرار موت نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جب کہ تحقیقاتی صحافی اقرار الحسن نے کیس سے متعلق مزید اہم انکشافات کیے ہیں۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حمیرہ کی موت اُس وقت سے تقریباً نو ماہ پہلے واقع ہو چکی تھی جب ان کی لاش کراچی میں واقع فلیٹ سے ملی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش شدید حد تک گل چکی تھی۔ جسم کے وہ حصے جو عام طور پر سب سے آخر میں خراب ہوتے ہیں—جیسے کھوپڑی کا پچھلا حصہ اور گھٹنوں کے جوڑ—وہ بھی شدید حد تک متاثر ہو چکے تھے۔ یہاں تک کہ ایک ہاتھ جسم سے الگ ہو چکا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موت کو طویل عرصہ گزر چکا تھا۔
اقرار الحسن، جو اس کیس کو مسلسل فالو کر رہے ہیں، نے ٹیلی کام ڈیٹا، پڑوسیوں کے بیانات اور پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حمیرہ کی آخری مرتبہ ستمبر 2024 میں کسی سے رابطہ ہوا تھا۔ اسی مہینے وہ چند سماجی تقریبات میں دیکھی گئیں، اور ان کا موبائل ڈیٹا بھی وہیں ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد سے نہ کسی دوست نے انہیں یاد کیا، نہ کسی رشتہ دار نے ان کی خبر لی، اور نہ ہی کسی ساتھی نے ان کی گمشدگی کی اطلاع دی۔
رپورٹ کے مطابق، حمیرہ کے فلیٹ کی بجلی اکتوبر 2024 میں منقطع ہو گئی تھی اور فریج یا کچن میں موجود تمام اشیائے خوردونوش اسی وقت ایکسپائر ہو چکی تھیں، جس کے بعد کراچی جیسے شہر کی گرمی میں زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔
اگرچہ فلیٹ سے کسی نشہ آور دوا یا زہریلی چیز کا سراغ نہیں ملا، لیکن یہ معاملہ سماجی بے حسی اور تنہائی کے سنگین پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ اقرار الحسن نے اسے محض "لاپروائی سے ہونے والی موت” قرار دینے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا:
"اس کے دوست کہاں تھے؟ ساتھی فنکاروں نے کیوں توجہ نہ دی؟ کسی کو پروا کیوں نہ ہوئی؟”
حمیرہ اصغر کی افسوسناک موت اور کئی ماہ تک ان کی غیرموجودگی کا کسی کو علم نہ ہونا ایک بڑا سماجی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ تاحال حکام نے کوئی حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا، لیکن سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اس کیس کی مکمل، شفاف اور سنجیدہ تحقیقات کی جائیں۔
