پاکستانی اداکارہ دری فشاں سلیم نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے اس غیر سنجیدہ اور لاتعلق ردِعمل پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جو انہوں نے ایک صحافی کے جذباتی سوال کے جواب میں دیا تھا۔ یہ سوال اُس کم سن ابراہیم کی ہلاکت سے متعلق تھا جو کھلے مین ہول میں گر کر جان سے گیا۔
واقعے نے شہر بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی، اور حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں ایک صحافی نے میئر سے پوچھا کہ شہر میں کھلے مین ہول کیوں موجود ہیں اور یہ غفلت ایک بچے کی جان کیسے لے گئی؟ تاہم میئر نے سوال کو نظرانداز کرنے کے انداز میں جواب دیا، جس پر عوامی ردعمل مزید شدید ہوگیا۔
دری فشاں نے اس رویے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو مشکل سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے، خصوصاً جب بات شہری انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی کے باعث ہونے والی اموات کی ہو۔
اداکارہ نے زور دیا کہ سوال اٹھانا اور تنقید کرنا کسی حکومت کے خلاف سازش نہیں بلکہ عوام کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ ان کے مطابق ذمہ داری سے بچنے یا سوال کرنے والوں کو بے توقیر کرنے سے عوام کا اعتماد مزید کم ہوتا ہے۔
انہوں نے اس صحافی کی سلامتی پر بھی تشویش ظاہر کی جس نے یہ جرات مندانہ سوال پوچھا، اور کہا کہ سچ بولنے والوں کے لیے مشکلات کھڑی کرنا ایک خطرناک روایت بنتی جارہی ہے۔
ابراہیم کی ہلاکت نے کراچی کے بگڑتے ڈھانچے اور شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ اب تک کسی بڑے عملی اقدام یا اصلاحات کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
