لاہور: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جب کہ ان کے لاہور میں واقع گھر سے بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی اور سونا برآمد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی پنجاب پولیس، ایف آئی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے مشترکہ طور پر کی۔ حکام نے بتایا کہ 11 کروڑ روپے مالیت کی نقدی، قیمتی زیورات اور سونا و چاندی قبضے میں لے لیے گئے ہیں، جنہیں مزید تفتیش کے لیے فرانزک ٹیم کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق چھاپہ اس وقت مارا گیا جب اتوار کی رات تنظیم کے مارچ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اہلکاروں کے مطابق گھر سے بھاری کرنسی اور سونا ملنے پر وہ حیران رہ گئے، کیونکہ تنظیم کے قیام سے قبل سعد رضوی کسی کاروبار سے وابستہ نہیں تھے۔
تحقیقات میں اب سعد رضوی اور ان کے اہل خانہ کے بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ فنڈز کے ذرائع معلوم کیے جا سکیں۔
پنجاب پولیس کی جاری کردہ فہرست کے مطابق گھر سے ایک کلو 920 گرام سونا، 898 گرام چاندی، 69 برانڈڈ گھڑیاں اور مختلف زیورات برآمد ہوئے ہیں، جب کہ غیر ملکی کرنسی میں بھارتی روپے، یورو، ریال، پاؤنڈز اور دیگر نوٹ شامل ہیں۔
دوسری جانب صوبے بھر میں 22 مقدمات سعد رضوی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف درج کیے گئے ہیں۔ مرکزی مقدمے میں 300 سے زائد افراد پر تشدد، ہنگامہ آرائی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق مظاہروں کے دوران مشتعل کارکنان نے ڈنڈوں اور لوہے کی سلاخوں سے حملے کیے، جبکہ کچھ نے فائرنگ بھی کی، جس سے کئی اہلکار زخمی ہوئے۔
ادھر معروف عالمِ دین مفتی منیب الرحمٰن نے حالیہ کریک ڈاؤن کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ واقعات کے ذمہ دار کون ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جاں بحق کارکنوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کی جائیں اور گھروں پر چھاپے بند کیے جائیں۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں اور مبینہ طاقت کے غیر ضروری استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کو قانون کے مطابق صرف ضرورت کے مطابق طاقت استعمال کرنی چاہیے۔
