سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے کی کوئی بھی سرکاری جامعہ صوبائی حکام کی پیشگی منظوری کے بغیر ٹیوشن یا دیگر فیسوں میں اضافہ نہیں کر سکے گی۔ اس فیصلے کا مقصد طلبہ کو تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
وزیر برائے جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے کراچی میں کہا کہ یہ قدم اس لیے ضروری ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم کے اخراجات میں اضافے سے طلبہ اور والدین شدید مالی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی گرانٹس میں کمی کے باعث سندھ کی سرکاری جامعات کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث کچھ جامعات نے فیسوں میں اضافہ کرنے پر غور شروع کر دیا تھا، حالانکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اضافی فنڈز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اسماعیل راہو نے زور دیا کہ صوبائی حکومت تعلیمی شعبے کی مکمل معاونت کے لیے پرعزم ہے اور وہ طلبہ کو اضافی مالی بوجھ سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ یہ پالیسی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے عوامی فلاح کے وژن سے مطابقت رکھتی ہے، جس میں تعلیم اور صحت دونوں شعبوں پر خصوصی توجہ شامل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جماعت نہم سے بارہویں تک کے طلبہ کے لیے نیا گریڈنگ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔ مختلف تعلیمی بورڈز سے تجاویز حاصل کر لی گئی ہیں، اور تکنیکی مسائل حل ہونے کے بعد نیا نظام نافذ کر دیا
جائے گا۔
