کولمبیا یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک نئی عالمی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر کے بیشتر ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلانز شدید گرمی کے دوران ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مؤثر طریقے سے شامل نہیں کر رہے۔ تحقیق کے دوران 24 ممالک کے 83 منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں صرف 31 فیصد میں گرمی کے باعث پیدا ہونے والے مخصوص ذہنی مسائل جیسے خودکشی کا خطرہ یا نفسیاتی ایمرجنسیز کا ذکر موجود تھا۔
زیادہ تر ممالک کے منصوبے گرمی سے پیدا ہونے والی جسمانی بیماریوں جیسے ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی پر مرکوز ہیں، جبکہ ذہنی صحت کے اثرات کو ثانوی حیثیت دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک خطرناک غفلت ہے، کیونکہ شدید گرمی اضطراب، ڈپریشن، نیند کی خرابی اور سماجی دباؤ جیسے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔
زیادہ خطرے میں کون؟
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بزرگ افراد، ذہنی بیماریوں کا پہلے سے شکار افراد، اور بے گھر افراد شدید گرمی کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے لیے کسی بھی قسم کی ذہنی معاونت یا ہنگامی خدمات کا فقدان سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین نے خاص طور پر ان ممالک کو خبردار کیا ہے جہاں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جیسے پاکستان۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ممالک کو اپنے ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلانز میں فوری طور پر ذہنی صحت کے خطرات کو شامل کرنا چاہیے۔
محققین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں صرف جسمانی بیماریوں پر توجہ دینا کافی نہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم ذہنی صحت کو بھی اپنی پالیسیوں کا مرکزی حصہ بنائیں تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
