لاہور (رپورٹ) — پنجاب میں انٹرمیڈیٹ کی سطح پر طلباء کی ناکامی میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، 2025 میں صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں 41 فیصد امیدوار امتحانات میں ناکام ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں ناکامی کی شرح 32 فیصد تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 41 فیصد تک جا پہنچی۔ اس طرح 2021 سے 2025 کے درمیان ناکام طلباء و طالبات کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرمیڈیٹ امتحانات میں ناکامی کا بڑھتا رجحان ثانوی تعلیمی نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹیوں میں داخلوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، جو اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ثانوی تعلیمی نظام میں موجود کمزوریوں کو دور نہ کیا گیا تو پنجاب میں تعلیمی معیار مزید گر سکتا ہے اور اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
