کیری انسٹی ٹیوٹ آف ایکو سسٹم اسٹڈیز
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف خشک سالی اور گرمی ہی نہیں بلکہ طاقتور گرج چمک والے طوفان بھی برساتی جنگلات میں درختوں کی اموات کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔ یہ طوفان، جو شدید ہواؤں اور بجلی کے کڑکوں سے بھرپور ہوتے ہیں، بعض علاقوں میں 30 فیصد سے 60 فیصد تک درختوں کی ہلاکتوں کا سبب بن رہے ہیں جو خشک سالی سے بھی زیادہ ہے۔
چونکہ موسمیاتی تبدیلی ہر دہائی میں طوفانوں کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ صورتحال نہ صرف جنگلات کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ زمین کے کاربن ذخیرہ کرنے کے نظام اور موسمی توازن کو بھی بگاڑ سکتی ہے۔
برساتی جنگلات زمین کے پھیپھڑوں کی طرح ہیں، تحقیق کے سربراہ ایوان گورا نے کہا۔ "لیکن اب درخت پہلے سے زیادہ تیزی سے مر رہے ہیں، اور اس کی بڑی وجہ یہی طوفان بن رہے ہیں۔”
تحقیقاتی ٹیم نے پرانے جنگلاتی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور پایا کہ تیز رفتار طوفانی بادلوں (convective storms) جو اچانک بن کر آتے ہیں اور بجلی و ہواؤں کے ساتھ حملہ کرتے ہیں خشک سالی اور شدید گرمی جتنے ہی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کی رکن وینیسا روبیو نے بتای
"جب جنگل میں طوفان آتا ہے تو آسمان سیاہ ہو جاتا ہے، ہوا تیز ہو جاتی ہے، بجلی چمکتی ہے اور شاخیں گرنے لگتی ہیں۔ یہ ایک خوفناک اور طاقتور تجربہ ہوتا ہے۔”
اب تک زیادہ تر سائنسدانوں نے خشک سالی اور گرمی کو ہی برساتی جنگلات کی زوال کی بڑی وجہ سمجھا تھا، لیکن یہ تحقیق، جو جریدہ Ecology Letters میں شائع ہوئی ہے، ظاہر کرتی ہے کہ اگر طوفانوں کو نظرانداز کیا جائے تو یہ ایک نامکمل تصویر بنتی ہے۔
ایوان گورا نے وضاحت کی کہ جب جنگلات کے اعداد و شمار میں طوفانوں کو شامل کیا گیا تو گرمی اور کاربن میں کمی کا روایتی تعلق ختم ہو گیا۔ یعنی طوفانوں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
یہ خطرہ ان علاقوں میں زیادہ بڑھ جاتا ہے جیسے کہ جنوبی ایمیزون، جہاں جنگلات کو خشک سالی اور طوفان دونوں کا سامنا ہے۔ یہ دونوں خطرات مل کر جنگلات کو مزید تباہ کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم برساتی جنگلات کو بچانا چاہتے ہیں اور ان کی کاربن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ مختلف درختوں پر طوفانوں کا کیا اثر پڑتا ہے تاکہ ہم بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔
