پیرس: فرانس جمعرات کو بڑے پیمانے پر ہڑتالوں کے باعث شدید رکاوٹوں کے لیے تیار ہے، جہاں لاکھوں مزدور مجوزہ بجٹ کٹوتیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے۔ اس ملک گیر احتجاج میں اساتذہ، ٹرین ڈرائیورز، اسپتال کا عملہ، فارماسسٹ اور کسان شامل ہوں گے۔
احتجاج کی قیادت کرنے والی یونینز کا مطالبہ ہے کہ عوامی خدمات میں مزید سرمایہ کاری کی جائے، امیروں پر بھاری ٹیکس لگائے جائیں اور غیر مقبول پنشن اصلاحات کو واپس لیا جائے۔ حکام کے اندازوں کے مطابق تقریباً 8 لاکھ افراد ہڑتال میں شریک ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں پیرس میٹرو، علاقائی ٹرینوں اور بجلی کی ترسیل میں سنگین خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔
وزیر داخلہ برونو ریٹیلو نے اعلان کیا کہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے 80 ہزار پولیس اہلکار، فسادات پر قابو پانے والی فورسز، ڈرونز اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کی جائیں گی۔ حکام کو خدشہ ہے کہ مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور پرتشدد جھڑپیں ہو سکتی ہیں۔
یہ کشیدگی صدر ایمانوئل میکرون اور ان کے نومنتخب وزیرِاعظم سباستین لیکورنوں کے لیے ایک نازک موقع پر سامنے آئی ہے، جو پہلے ہی سیاسی اور مالی دباؤ میں ہیں۔ فرانس کا بجٹ خسارہ یورپی یونین کی مقررہ حد سے تقریباً دگنا ہو چکا ہے، جبکہ لیکورنوں کو 2026 کے بجٹ کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کو قائل کرنا ہوگا، جس نے ان کے پیشرو کا 44 ارب یورو کا کفایت شعاری منصوبہ مسترد کر دیا تھا۔
یونینز کا کہنا ہے کہ عام مزدوروں پر غیرمنصفانہ بوجھ ڈالا جا رہا ہے جبکہ عوامی خدمات بدستور غیر فنڈ شدہ ہیں۔ مزدور رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، "ہمارے نمائندہ کارکن غصے میں ہیں،” اور خبردار کیا کہ جب تک حکومت جواب نہیں دیتی احتجاج جاری رہے گا۔
ایک تہائی پرائمری اسکول اساتذہ کے ہڑتال پر جانے کا امکان ہے، جبکہ 98 فیصد فارمیسیاں پورے دن کے لیے بند رہیں گی۔ کسان اور توانائی کے شعبے کے مزدور بھی تحریک کا حصہ بن گئے ہیں۔ سی جی ٹی یونین کی سربراہ صوفی بائنٹ نے واضح پیغام دیا: "یہ بجٹ سڑکوں پر طے ہوگا،” جس سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر حکومت نے لچک نہ دکھائی تو مزید بے چینی جنم لے گی۔
