سینئر پاکستانی اداکار فردوس جمال نے حالیہ انٹرویو میں موسیقی اور اسلامی روایات کے درمیان تعلق پر دیے گئے بیان سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ گفتگو یوٹیوب پوڈکاسٹ ریحان طارق آفیشل پر ہوئی، جس میں انہوں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
فردوس جمال نے موسیقی کو روحانی اور آسمانی زبان قرار دیتے ہوئے کہا، "موسیقی آسمانوں کی زبان ہے، جنت میں بھی یہ سنی جائے گی تاکہ ہمیں سکون ملے۔” انہوں نے کہا کہ معاشرہ موسیقی کو سنتا تو ہے مگر گلوکاروں کو عزت دینے سے کتراتا ہے۔
انہوں نے کہا، "اگر کوئی گلوکار بن جائے تو ہم اسے کمتر سمجھتے ہیں، یہ دوہرا معیار ہے۔ ہم منافق ہیں، مگر اسی معاشرے میں ہمیں جینا ہے۔”
مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے نعت، قرأت اور اذان جیسے مذہبی اعمال کو بھی موسیقی کے راگ سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام چیزوں میں بھی سریلا انداز ہوتا ہے، جو کلاسیکی راگ ‘بھیروی’ سے مشابہ ہوتا ہے۔ "موذن اور نعت خواں بھی راگ استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی سادہ انداز میں اذان دے تو لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔ وہ سُر کی وجہ سے پسند کرتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
فردوس جمال نے تسلیم کیا کہ ان کے خیالات پر تنقید ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، "اب لوگ کہیں گے کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، کہ نعت اور اذان کو موسیقی سے جوڑ رہا ہوں۔ مگر حقیقت یہی ہے۔”
اداکار کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ نے ان کی جرأت کو سراہا، جبکہ کچھ نے اسے مذہبی بے حرمتی قرار دیا۔ مکمل انٹرویو یوٹیوب چینل ریحان طارق آفیشل پر دستیاب ہے۔
