امریکی ہِپ ہاپ گروپ فیوجیز کے رکن پراکازریل “پراس” مشیل کو سابق امریکی صدر باراک اوباما کی 2012 کی انتخابی مہم میں غیر ملکی رقوم شامل کرنے کے جرم میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
مشیل کو متعدد الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جن میں سازش، گواہوں پر دباؤ ڈالنا اور غیر ملکی کاروباری شخصیت کی نمائندگی بغیر سرکاری رجسٹریشن کے کرنا شامل تھا۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق مشیل نے ملائیشین تاجر جھو لو سے ملنے والی لاکھوں ڈالر کی رقم کو امریکی سیاسی مہم میں خفیہ طور پر داخل کیا، جس کے لیے مختلف افراد کو بطور “اسٹرا ڈونرز” استعمال کیا گیا تاکہ اصل ذریعہ چھپایا جا سکے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق مشیل نے نہ صرف یہ رقوم سیاسی حلقوں تک پہنچائیں بلکہ بعد میں تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے اور جھو لو کے مبینہ مالی جرائم سے متعلق امریکی حکام کو متاثر کرنے کی کوشش بھی کی۔
اگرچہ سزاؤں کے رہنما اصول اس سے زیادہ سخت سزا تجویز کر رہے تھے، تاہم عدالت نے 14 سال قید کی سزا سنائی، جو کہ امریکی انتخابی فنڈنگ سے متعلق مقدمات میں ایک بڑی سزا شمار ہوتی ہے۔ مشیل کے وکلا نے فیصلے کو “حد سے زیادہ سخت” قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک وقت میں لارن ہِل اور وائکلیف جین کے ساتھ عالمی شہرت پانے والے پراس مشیل اب برسوں طویل عدالتی کارروائی کے بعد ایک سنگین سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔
