لاہور میں ڈیوٹی کے دوران ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے والے تین پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اہلکاروں نے نہ صرف وردی کا غلط استعمال کیا بلکہ ڈیوٹی کے دوران غفلت اور غیر پیشہ ورانہ رویہ بھی اختیار کیا۔
یہ ویڈیوز، جو پولیس کی گاڑی اور مختلف ڈیوٹی پوائنٹس پر بنائی گئی تھیں، سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو شہریوں کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام نے انکوائری شروع کی جو اہلکاروں کی کوتاہی ثابت ہونے پر مکمل ہوئی۔
لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فورس میں ڈسپلن کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، اور اس طرح کی کارروائی ادارے کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھی۔
سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے — کچھ اسے درست قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ کے مطابق سزا ضرورت سے زیادہ سخت ہے۔
