لاہور: لاہور پولیس نے ایک مذہبی و سیاسی جماعت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خفیہ ایجنڈے کے تحت شہر میں تشدد آمیز احتجاج اور بے معنی انتشار پھیلا رہی ہے، یہ بات ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں کہی۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس جماعت سے متعدد بار بات چیت کی اور احتجاج مؤخر کرنے کی کوشش کی تاکہ معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو، مگر اُن کے بقول مظاہرین پرتشدد رویہ ترک نہ کرنے پر آمادہ ہوئے اور جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ “جب بھی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو کچھ عناصر خفیہ ایجنڈے کے تحت انتشار پھیلانے کی کوشش کر دیتے ہیں۔” ڈی آئی جی کے مطابق اب تک پنجاب پولیس کے 112 اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کو طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا جبکہ کئی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ چند اہلکار لاپتا بتائے گئے ہیں اور خدشہ ہے کہ وہ مظاہرین کے قبضے میں ہوسکتے ہیں۔
فیصل کامران نے کہا کہ مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، شہریوں کی گاڑیاں چھینی گئیں، قیمتی اشیاء لوٹی گئیں اور پولیس تھانوں پر حملے بھی کیے گئے جبکہ اورینج لائن میں بھی توڑ پھوڑ ہوئی۔ اُن کے بقول بدامنی پھیلانے والے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور محفوظ شہر (سیف سٹی) کے کیمروں کی ریکارڈنگز کو بھی چیک کیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ ریاست پرتشدد کارروائی برداشت نہیں کرے گی اور جو لوگ امن و امان خراب کریں گے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ معمول کی زندگی رواں رکھیں جب کہ تفتیش اور کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔
