لندن، 13 اکتوبر (ProPK اسٹاف) — نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے انکشاف کیا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ویڈ (گنجا) پینے کے اپنے پہلے تجربے نے اُنہیں طالبان کے 2012 کے قاتلانہ حملے کی تلخ یادوں میں واپس لے گیا۔
گارڈین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں 28 سالہ سماجی کارکن نے بتایا کہ انہوں نے ایک طلبہ کی محفل میں پہلی بار ’’بونگ‘‘ (ویڈ پینے کا آلہ) آزمایا، لیکن اس کے نتیجے میں اُنہیں اُس وقت کے مناظر یاد آنے لگے جب وہ 15 سال کی تھیں اور طالبان کے حملے کا شکار ہوئی تھیں۔ ملالہ نے کہا:
’’میں نے کبھی اپنے آپ کو اُس حملے کے اتنا قریب محسوس نہیں کیا تھا جتنا اُس لمحے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے ہاسٹل کے کمرے تک پہنچنے کی کوشش کے دوران گر پڑیں کیونکہ اُن کے ذہن میں گولیوں کی آوازیں اور خون کے مناظر گونجنے لگے تھے۔
’’میں نے سوچا تھا کہ اب مجھے کچھ نہیں ڈرا سکتا، لیکن پھر میں چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ڈرنے لگی — اور وہی لمحہ میرے لیے ٹوٹنے کا باعث بنا،‘‘ ملالہ نے اعتراف کیا۔
ملالہ نے مزید بتایا کہ تھراپی اور مدد کے ذریعے وہ آہستہ آہستہ صحت یاب ہوئیں اور دوبارہ جذباتی توازن حاصل کیا۔
اب ملالہ اپنی شادی شدہ زندگی اپنے شوہر اثر ملک کے ساتھ گزار رہی ہیں اور ’’ملالہ فنڈ‘‘ کی ایگزیکٹو چیئر کے طور پر لڑکیوں کی تعلیم اور بااختیاری کے عالمی مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
