بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور برطانوی وزیرِاعظم سَر کیئر اسٹارمر نے بھارت اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیتے ہوئے حالیہ تجارتی اور دفاعی معاہدوں کو دونوں ممالک کے لیے تاریخی اور تبدیلی لانے والا قرار دیا۔
ممبئی کے راج بھون میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ بھارت اور برطانیہ کے تعلقات نے "نمایاں پیشرفت” کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ درآمدی اخراجات کو کم کرے گا، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور دونوں ممالک کی معیشت کو مضبوط بنائے گا۔
مودی نے کہا، “یہ معاہدہ ہمارے درمیان تجارت میں اضافے، روزگار کی فراہمی اور عوامی فلاح کا ذریعہ بنے گا۔”
انہوں نے اسٹارمر کو اپنا “دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں “نئی توانائی” کی علامت ہے۔
یہ تجارتی معاہدہ، جو جولائی میں لندن میں دستخط ہوا، کے تحت بھارت برطانوی مصنوعات جیسے کاسمیٹکس اور میڈیکل ڈیوائسز پر محصولات کم کرے گا، جبکہ برطانیہ بھارتی کپڑوں، جوتوں اور خوراکی اشیاء (بشمول منجمد جھینگوں) پر ڈیوٹی میں کمی کرے گا۔
کیئر اسٹارمر، جو اپنی وزارتِ عظمیٰ کے بعد پہلی بار بھارت کے دورے پر آئے ہیں اور 125 رکنی وفد کے ہمراہ ہیں، نے کہا کہ وہ اس معاہدے سے دونوں ممالک میں ہزاروں ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “بھارت کی ترقی کی کہانی متاثر کن ہے۔ جو کچھ میں نے یہاں دیکھا، وہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت 2028 تک دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی راہ پر ہے — اور ہم اس سفر کے شراکت دار بننا چاہتے ہیں۔”
دونوں رہنماؤں نے ایک دفاعی تعاون کا معاہدہ اور تعلیمی شراکت داری کے منصوبے کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت نو برطانوی یونیورسٹیاں بھارت میں کیمپس کھولیں گی۔
بھارت اور برطانیہ کے درمیان اس وقت 54.8 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت ہوتی ہے جو دونوں ممالک میں 6 لاکھ سے زائد نوکریوں کی معاونت کرتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مطابق، بھارت 2022 میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے اور توقع ہے کہ رواں سال جاپان کو پیچھے چھوڑ کر چوتھی بڑی معیشت بن جائے گا۔
اسٹارمر نے کہا کہ ان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو “دگنا کرنے اور تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے” کی کوشش ہے۔
