فیصل آباد میں پیدا ہونے والے موسیقی کے شہنشاہ نصرت فتح علی خان کو آج مداح اُن کی 28ویں برسی پر عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کر رہے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ گلوکار 16 اگست 1997 کو لندن میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے، لیکن اُن کی جادوئی آواز آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔
13 اکتوبر 1948 کو پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان نے اپنے والد اور استاد استاد مبارک علی خان سے ابتدائی تربیت حاصل کی۔ 1971 میں حق علی علی سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے اور ایک ہزار سے زائد قوالیاں اور 125 سے زیادہ البمز ریلیز کیے۔ ان کامیابیوں نے اُنہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز تک پہنچایا اور پاکستان کا ثقافتی سفیر بنا دیا۔
اُن کے مشہور کلام دم مست قلندر اور علی علی نے صوفیانہ شاعری کو نئی نسل تک ایک منفرد رنگ میں پہنچایا۔ 1990 کی دہائی میں کینیڈا کے گٹارسٹ مائیکل بروک اور برطانوی موسیقار پیٹر گیبریل کے ساتھ اُن کے مشترکہ پروجیکٹس نے مغرب میں بھی اُنہیں بے مثال مقام دلایا۔ البم مست مست عالمی موسیقی میں سنگِ میل ثابت ہوئی۔
اپنے کیریئر کے دوران نصرت فتح علی خان کو پرائیڈ آف پرفارمنس اور یونیسکو میوزک پرائز سمیت بے شمار عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔ اُن کی آواز بھارتی فلم انڈسٹری میں بھی گونجی اور کئی مشہور گیتوں کو امر کر گئی۔
اُن کے انتقال کو تقریباً تین دہائیاں گزر جانے کے باوجود نصرت فتح علی خان کی موسیقی آج بھی سرحدوں اور نسلوں سے بالاتر ہو کر سننے والوں کو جھومنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
