پاکستان کے موسیقی کے منظرنامے میں جہاں خواتین کے لیے جگہ ہمیشہ تنگ رہی ہے، وہاں ایک نیا اقدام — وائس آف ہر (Voice of Her) — ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم پاکستانی خواتین موسیقاروں کو وہ موقع دے رہا ہے جس کے وہ طویل عرصے سے منتظر تھیں: ایک باوقار اسٹیج، سننے والا مجمع، اور سچی پہچان۔
یہ منصوبہ معروف گلوکارہ اور ٹی وی آرٹسٹ سمرا خان نے قائم کیا ہے۔ ان کا مقصد صاف اور دل سے جڑا ہوا ہے — خواتین کو ان کی آواز واپس دینا۔
وائس آف ہر خود کو پاکستان کا پہلا ایسا پلیٹ فارم قرار دیتا ہے جو خواتین موسیقاروں اور فنکاروں کے لیے مخصوص طور پر بنایا گیا ہے، تاکہ انہیں اپنی صلاحیتیں دکھانے، نئے مواقع حاصل کرنے اور موسیقی کے میدان میں قدم جمانے کا موقع ملے۔
اس اقدام کا پہلا بڑا ایونٹ 26 اکتوبر 2025 کو نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (NAPA)، کراچی میں منعقد ہوا، جس میں خواتین موسیقاروں اور گلوکاراؤں نے شاندار پرفارمنسز پیش کیں۔ یہ صرف ایک کنسرٹ نہیں تھا، بلکہ ایک علامتی اعلان تھا — کہ خواتین اب پس منظر میں نہیں رہیں گی۔
ایونٹ کا نعرہ تھا:
"Her Voice. Her Power. Together, We Rise.”
(اس کی آواز، اس کی طاقت — اور ہم سب ایک ساتھ اُٹھیں گے۔)
تقریب میں سمرا خان نے خود بھی پرفارم کیا، جب کہ کئی نئی ابھرتی ہوئی گلوکاراؤں اور سازندوں نے پہلی بار کسی بڑے قومی اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر پنک ربن پاکستان کے ساتھ بھی شراکت داری کی گئی تاکہ بریسٹ کینسر سے آگاہی پھیلائی جا سکے۔
اسٹیج کے انتخاب کا مطلب بھی بہت معنی خیز تھا۔ ناپا جیسے معروف ادارے میں خواتین کی قیادت میں ہونے والا یہ پروگرام اس بات کا ثبوت تھا کہ خواتین اب صرف "مہمان گلوکارہ” نہیں بلکہ "ہیڈ لائن ایکٹس” بن رہی ہیں۔
سمرا خان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا:
“ہماری خواتین میں ٹیلنٹ کی کبھی کمی نہیں رہی۔ کمی ہمیشہ پلیٹ فارم کی رہی ہے — ایک ایسے پلیٹ فارم کی جو ان پر یقین کرے، ان میں سرمایہ کاری کرے، اور ان کے فن کو سنجیدگی سے پیش کرے۔”
پاکستانی خواتین موسیقار برسوں سے صنفی تعصب، سکیورٹی خدشات اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ نازیہ حسن سے لے کر نتاشا نورانی، مہک علی اور عروج آفتاب تک — ہر کامیاب آواز کے پیچھے بے شمار نام ایسے ہیں جنہیں موقع ہی نہیں ملا۔
وائس آف ہر اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ صرف کنسرٹس تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں ورکشاپس، مینٹورشپ پروگرامز اور ڈیجیٹل شوکیسز کے ذریعے خواتین موسیقاروں کو پروفیشنل ٹریننگ، پروڈکشن، اور اپنی موسیقی کو عالمی سطح پر پہنچانے کے مواقع فراہم کرے گا۔
ایک نوجوان گلوکارہ نے کنسرٹ کے بعد کہا:
“ہم صرف گانے نہیں گا رہیں، ہم پاکستان میں عورت کے فنکار بننے کے مفہوم کو بدل رہی ہیں۔”
اور سچ یہی ہے — اب خواتین موسیقار اجازت کی منتظر نہیں۔ وہ خود اسٹیج سنبھال رہی ہیں، اور اب یہ روشنی واپس نہیں لی جا سکتی۔
