دنیا بھر میں مشہور جاپانی کردار ہیلو کِٹی اب آخرکار بڑی اسکرین پر جلوہ گر ہونے جا رہی ہے۔ وارنر برادرز نے اعلان کیا ہے کہ اس کا اینیمیٹڈ فلم ورژن 21 جولائی 2028 کو سینما گھروں میں ریلیز کیا جائے گا۔ فلم کی ہدایت کاری لیو ماتسودا کریں گے، جبکہ اسے بیو فلن نے وارنر برادرز پکچرز اینیمیشن اور نیو لائن سینما کے بینر تلے پروڈیوس کیا ہے۔
اس فلم کی کہانی کے بارے میں ابھی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، تاہم شائقین میں جوش و خروش بڑھ گیا ہے۔ وارںر برادرز نے انسٹاگرام پر اعلان کرتے ہوئے لکھا:
> “ہیلو ہالی ووڈ! #HelloKittyMovie 21 جولائی 2028 کو سینما گھروں میں آرہی ہے۔”
ہیلو کِٹی کا تصور سب سے پہلے 1974 میں جاپانی کمپنی سانریو (Sanrio) کے تخلیق کار یوکو شیمیزو نے پیش کیا تھا۔ یہ ایک سفید بلی کے روپ میں برطانوی کردار ہے جس کا نام کِٹی وائٹ رکھا گیا۔ سرخ ربن اور مسکراتی شکل والی یہ بلی عالمی سطح پر دوستی، معصومیت اور خوشی کی علامت بن گئی۔
سانریو کے بانی شنتارو تسوجی نے اپنے ایک پرانے بیان میں کہا تھا:
> “ہیلو کِٹی ہمیشہ سے دوستی کی علامت رہی ہے، اور ہمیں امید ہے کہ یہ فلم دنیا بھر میں اس دوستی کے دائرے کو مزید وسیع کرے گی۔”
یہ پہلا موقع ہے جب سانریو نے اپنے مشہور کرداروں — جن میں ہیلو کِٹی، مائی میلوڈی، گوڈیٹاما اور لٹل ٹوئن اسٹارز شامل ہیں — کو کسی بڑے ہالی ووڈ اسٹوڈیو کے ساتھ لائسنس کیا ہے۔
دوسری جانب، فلن پکچر کمپنی اس وقت ڈزنی کی لائیو ایکشن فلم موآنا پر بھی کام کر رہی ہے، جو ڈوین جانسن اور کیتھرین لاگاآئیا کے ساتھ 10 جولائی 2026 کو ریلیز ہوگی۔
“ہیلو کِٹی” فلم جاپانی ثقافت کی دلکشی اور ہالی ووڈ اینیمیشن کے امتزاج کے ساتھ ایک ایسی کہانی پیش کرے گی جو ہر نسل کے ناظرین کے لیے خوشگو
ار تجربہ ثابت ہوگی۔
