کوالالمپور — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کو “فوراً حل” کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو “عظیم شخصیات” قرار دیا۔
ٹرمپ نے یہ بات تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران کہی، جو آسیان سمٹ کے موقع پر کوالالمپور میں منعقد ہوئی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ان کی حکومت نے “آٹھ ماہ میں آٹھ جنگیں ختم کیں” اور اب وہ جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔
“میں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے، لیکن میں اسے بہت جلد حل کر دوں گا۔ میں دونوں رہنماؤں کو جانتا ہوں — فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم دونوں بہت عظیم لوگ ہیں،” ٹرمپ نے کہا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان بارڈر کراسنگ بند ہیں۔ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب اسلام آباد نے کابل پر الزام لگایا کہ وہاں سے عسکریت پسند پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔
قطر اور ترکی کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد فائر بندی پر اتفاق ہوا جو اب تک برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق، استنبول میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات میں پاکستان نے افغان طالبان کو انسدادِ دہشت گردی کی ایک جامع حکمتِ عملی پیش کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ترجیح جنگوں کو ختم کرنا ہے۔ “اگر میں لاکھوں جانیں بچا سکتا ہوں تو یہ سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ باقی صدور جنگیں شروع کرتے ہیں، میں ختم کرتا ہوں۔”
ادھر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنماؤں نے بھی ٹرمپ کی موجودگی میں ایک نیا جنگ بندی معاہدہ پر دستخط کیے، جس کے بعد انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔
