پاپ میوزک کی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کو اپنے تازہ ترین البم “دی لائف آف اے شوگرل” کی تشہیری مہم میں مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر شدید عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ تنازعہ اُس وقت شروع ہوا جب سوئفٹ کے مداحوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ’’اورنج ڈور‘‘ ویڈیوز جو ایک عالمی ’’ٹریژر ہنٹ‘‘ چیلنج کا حصہ تھیں دراصل مصنوعی طور پر تیار کردہ مناظر تھے۔ یہ مہم لندن، پیرس، ملبورن اور نیش وِل سمیت دنیا کے بارہ شہروں میں شروع کی گئی تھی، جہاں روشن نارنجی دروازوں پر لگے QR کوڈز اسکین کرنے پر مداحوں کو مختصر ویڈیوز دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ ان ویڈیوز کو جوڑنے سے ایک ’’خفیہ پیغام‘‘ سامنے آنا تھا۔
تاہم، یہ مہم جو ابتدا میں ایک دلچسپ اور انٹرایکٹو جشن کے طور پر دیکھی جا رہی تھی، جلد ہی متنازع بن گئی، جب مداحوں نے نوٹ کیا کہ ویڈیوز میں مصنوعی بصری اثرات نمایاں ہیں۔ خاص طور پر اُن مداحوں نے مایوسی کا اظہار کیا جو سوئفٹ کی “فولکلور” اور “ایورمور” ادوار میں ان کی اصلی کہانی گوئی کے انداز کے معترف تھے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل سوئفٹ کے اپنے ہی مؤقف سے متصادم ہے ایک ایسی فنکارہ جو کبھی اپنی موسیقی کے حقوق واپس حاصل کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کرتی رہی، وہ اب تخلیقی تشہیر میں مصنوعی ذہانت پر انحصار کیوں کر رہی ہیں؟ کچھ مبصرین نے سوال اٹھایا کہ ایک فنکارہ جو ہمیشہ تخلیقی آزادی اور فنکارانہ دیانت کی علمبردار رہی، وہ خود AI تخلیقات کو کیوں فروغ دے رہی ہیں۔
یہ تنازعہ سوئفٹ کی حالیہ 360 ملین ڈالر مالیت کے معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے انہوں نے شیم راک کیپیٹل سے اپنے ماسٹر ریکارڈنگز دوبارہ حاصل کیں ایک کامیابی جسے مداحوں نے فنکاروں کے حقوق کے لیے ایک بڑی فتح قرار دیا تھا۔
تاہم، تنقید کے باوجود، “دی لائف آف اے شوگرل” نے ریکارڈ ساز کامیابی حاصل کی ہے، اور 2025 کی سب سے زیادہ اسٹریم کی جانے والی ریلیز بن گئی ہے، جس نے پہلے ہی دن 250 ملین اسٹریمز حاصل کیے۔
