کراچی (اسٹاف رپورٹر) جون 2025 میں پاکستان کے تین تعلیمی اداروں نے عالمی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کی جب انہیں برطانیہ کی تنظیم ٹی 4 ایجوکیشن کے تحت منعقدہ ورلڈز بیسٹ اسکول پرائزز میں ٹاپ 10 فائنلسٹ میں شامل کیا گیا۔ یہ ایوارڈز دنیا بھر کے اُن اسکولوں کو اجاگر کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں جو جدید اور مثبت طریقۂ تعلیم سے طلبہ اور کمیونٹی کی زندگیوں پر اثر ڈال رہے ہیں۔
لاہور کا سنجن نگر پبلک ایجوکیشن ٹرسٹ ہائر سیکنڈری اسکول "اوورکمنگ ایڈورسٹی” کیٹیگری میں فائنلسٹ بنا۔ یہ فلاحی ادارہ غریب اور پسماندہ بچوں کو تعلیم فراہم کرتا ہے اور انٹرنیشنل بیکیلوریٹ (IB) اور پرائمری ایئرز پروگرام (PYP) کے ذریعے طلبہ کو جدید صدی کی مہارتیں سکھا رہا ہے۔ اسی شہر کا نارڈک انٹرنیشنل اسکول "کمیونٹی کولیبوریشن” کیٹیگری میں فائنلسٹ قرار پایا، جسے والدین کی شمولیت، ورکشاپس، انٹرایکٹو ایپ اور طلبہ میں مہربانی کی ثقافت کو فروغ دینے پر سراہا گیا۔ ادھر کوئٹہ کا بیکن ہاؤس کالج پروگرام، جنیپر کیمپس بھی "کمیونٹی کولیبوریشن” کے لیے منتخب ہوا جسے "سائنس گاڑی” منصوبے کی بدولت نمایاں اعزاز ملا۔ یہ موبائل سائنس لیب بلوچستان کے دیہی علاقوں میں جا کر بچوں کو عملی سائنسی تعلیم فراہم کرتی ہے اور نوجوانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی طرف راغب کرتی ہے۔
اس کامیابی پر ملک بھر میں خوشی کا اظہار کیا گیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی اور اسے پاکستان کے تعلیمی شعبے کے لیے قابلِ فخر لمحہ قرار دیا۔
