واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود واشنگٹن مسلسل صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ جنگ بندی معاہدے اکثر جلد ٹوٹ جاتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ بندیوں کو قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا:
“ہر روز ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں کیا ہو رہا ہے، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی صورتحال کیا ہے۔ جنگ بندی بہت جلد ختم ہوسکتی ہے، جیسا کہ ہم روس-یوکرین جنگ کے ساڑھے تین سال بعد دیکھ رہے ہیں۔”
ٹرمپ کی ثالثی سے ٹلنے والا بحران
واضح رہے کہ رواں سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ ایک بڑی جنگ کے آثار پیدا ہوگئے تھے۔
7 مئی کو بھارت نے “آپریشن سندور” کے نام سے پاکستان کی سرزمین پر فضائی حملے کیے، جس کی اسلام آباد نے سخت مذمت کی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے “آپریشن بنیانُ المرصوص” کے تحت بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، چھ لڑاکا طیارے بشمول تین رافائل اور درجنوں ڈرون مار گرائے۔
یہ جھڑپ 87 گھنٹے تک جاری رہی اور بالآخر امریکہ کی مداخلت کے بعد جنگ بندی ممکن ہوئی۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جنگ بندی کا اعلان کیا اور اپنی انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ جہاں بھارت نے واشنگٹن کے کردار کو کم کرنے کی کوشش کی، وہیں پاکستان نے کھل کر ٹرمپ کے اقدامات کا اعتراف کیا اور حتیٰ کہ انہیں 2026 کا نوبیل امن انعام دینے کی سفارش بھی کی۔
بھارت کی خفیہ حکمت عملی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھارت نے “آپریشن مہا دیو” شروع کیا ہے، جس کے تحت جعلی جھڑپیں رچائی جا رہی ہیں تاکہ قید پاکستانی شہریوں کو سرحد پار سے آنے والے عسکریت پسند ظاہر کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی بھارت کی جنگی ناکامیوں کو چھپانے اور کشمیری آزادی تحریک کو دبانے کی کوشش ہے۔
مریکی مؤقف
روبیو نے کہا کہ امریکہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرقی ایشیا اور مشرقی یورپ کے تنازعات پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، وقتی جنگ بندی مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتی۔
