اسلام آباد عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے جاری کردہ گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2025 میں پاکستان کو صنفی مساوات کے لحاظ سے 148 ممالک میں سے آخری نمبر یعنی 148ویں پوزیشن پر رکھا گیا ہے، جو کہ دنیا بھر میں بدترین کارکردگی تصور کی جا رہی ہے۔
پاکستان کا مجموعی صنفی مساوات کا اسکور معمولی کمی کے ساتھ 56.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا (جبکہ 2024 میں یہ 57 فیصد تھا)۔ تاہم، ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ تعلیمی میدان میں صنفی برابری کا اسکور بہتر ہو کر 85.1 فیصد تک پہنچ گیا، جس کی وجہ خواتین میں خواندگی کی شرح میں معمولی اضافہ ہے، جو اب 48.5 فیصد ہو گئی ہے۔
اس کے برعکس، معاشی شرکت اور مواقع کے شعبے میں پاکستان کی کارکردگی مزید بگڑ گئی ہے، جہاں اسکور میں 1.3 فیصد پوائنٹس کی کمی آئی ہے۔ سیاسی بااختیاری کے اشاریے میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، کیونکہ پچھلے سال دو خواتین وزراء ہونے کے باوجود اس سال کوئی بھی خاتون وزیر نہیں۔
صحت اور بقا کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی اور اس میں تقریباً برابری دیکھی گئی۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی ملازمتوں تک رسائی، سیاسی نمائندگی اور معاشی شمولیت میں بنیادی اصلاحات کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تعلیم امید کی ایک کرن ہے، لیکن پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی صنفی ناہمواری کو کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ وہ علاقائی ممالک اور عالمی معیار کے برابر آ سکے۔
