پاکستان نے برطانیہ میں حالیہ پیش آنے والے واقعات پر شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا اور انہیں باضابطہ طور پر ڈی مارش جاری کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق برطانوی سفارتی نمائندے کو آگاہ کیا گیا کہ بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج اور وہاں کی جانے والی اشتعال انگیز تقاریر پاکستان کے لیے نہایت تشویش ناک ہیں۔ پاکستان نے ان واقعات کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین نفرت انگیز یا دھمکی آمیز سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان نے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جائے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ دوست ممالک سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہ دیں جو کسی دوسرے ملک کے اداروں یا قیادت کو نشانہ بنائیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی قیادت، اداروں اور قومی مفاد کے خلاف کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا نفرت آمیز بیانات کو برداشت نہیں کرے گا، جبکہ اس معاملے پر سفارتی سطح پر رابطے جاری رہیں گے۔
حکومتی نمائندوں نے تصدیق کی کہ برطانوی حکام کو ایک باضابطہ خط بھی بھیجا جا چکا ہے جس میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو اور سنگین نوعیت کے بیانات کے حوالے سے کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی وقار اور ذمہ دارانہ رویے کا معاملہ ہے۔
